اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مختصر مدت کیلئے ردوبدل کرتے ہوئے ہائی اسپیڈ ڈیزل مہنگا کر دیا ہے، جبکہ پٹرول کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق نئی قیمتیں 31 اکتوبر 2026 سے اگلے تین دن کیلئے نافذ کی گئی ہیں۔

پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے 29 پیسے اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 402 روپے 96 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی ہے۔ دوسری جانب پٹرول کی قیمت 377 روپے 91 پیسے فی لیٹر پر برقرار رکھی گئی ہے۔

ڈیزل کی قیمت میں تبدیلی کا براہ راست تعلق مال برداری، بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری اور کئی صنعتی سرگرمیوں کی لاگت سے ہوتا ہے۔ اس لیے اگرچہ تازہ اضافہ فی لیٹر نسبتاً محدود ہے، لیکن ڈیزل استعمال کرنے والے بڑے تجارتی اور نقل و حمل کے شعبوں کیلئے مجموعی اخراجات پر اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم سرکاری اعلان میں اس قیمت تبدیلی کے ممکنہ مہنگائی اثرات کے بارے میں کوئی تخمینہ جاری نہیں کیا گیا۔

حکومت نے اس مرتبہ قیمتوں کی مدت صرف تین دن بتائی ہے۔ یہ معمول کے طویل پندرہ روزہ قیمت دورانیے سے مختلف ایک مختصر انتظام ہے، اور صارفین و کاروباری اداروں کیلئے آئندہ نظرثانی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ سرکاری پریس ریلیز میں پٹرول کی قیمت برقرار رکھنے اور ڈیزل میں اضافے کے بنیادی حسابی عوامل کی تفصیلی تقسیم فراہم نہیں کی گئی۔

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی خوردہ قیمتیں عالمی خام تیل اور تیار شدہ مصنوعات کی قیمتوں، شرح مبادلہ، درآمدی اخراجات، پٹرولیم لیوی اور دیگر حکومتی اجزا سے متاثر ہوتی ہیں۔ مختلف مصنوعات کی قیمتوں میں ایک ہی وقت میں الگ سمت کی تبدیلی اسی وجہ سے ممکن ہوتی ہے، کیونکہ ان کے بین الاقوامی نرخ اور مقامی لاگت کے عناصر مختلف ہو سکتے ہیں۔

تازہ فیصلے کے تحت عام موٹر گاڑیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے پٹرول کے صارفین کو فی الحال اضافی فی لیٹر بوجھ نہیں دیا گیا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل استعمال کرنے والے ٹرانسپورٹ، زرعی اور تجارتی شعبوں کو نئی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ اگلی سرکاری نظرثانی تک یہی نرخ نافذ رہیں گے، جب تک پٹرولیم ڈویژن کوئی نیا نوٹیفکیشن یا پریس ریلیز جاری نہیں کرتا۔