اسلام آباد: بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مجوزہ نجکاری میں سرمایہ کاروں کے اعتماد سے متعلق سوالات سامنے آئے ہیں۔ متعلقہ ذرائع کے مطابق ممکنہ خریداروں نے حکومت سے معاہدوں کے قانونی تحفظ، مالی خطرات کی واضح تقسیم اور مستقبل میں طے شدہ شرائط کے برقرار رہنے کے بارے میں مضبوط ضمانتیں طلب کی ہیں۔

آٹھ اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار نجکاری کے پہلے مرحلے میں شامل تقسیم کار کمپنیوں کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔ بعض سرمایہ کاروں کو بجلی پیدا کرنے والے نجی اداروں کے معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات اور کے الیکٹرک سے متعلق حالیہ قانونی معاملات کے بعد مستقبل کے معاہدوں کے بارے میں خدشات لاحق ہوئے ہیں۔ یہ خدشات ممکنہ خریداروں سے منسوب ہیں، انہیں نجکاری کے کسی حتمی فیصلے یا سرکاری ضمانت کے اجرا کے طور پر نہیں پیش کیا جاسکتا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار موجودہ 20 سالہ لائسنس کی مدت سے زیادہ طویل اجازت ناموں اور ایسی پابند قانونی یقین دہانیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں جو نجکاری کے بعد ممکنہ تنازعات کا خطرہ کم کریں۔ حکومت کثیر ملکی مالیاتی اداروں سے سیاسی خطرات کے خلاف ضمانتوں کے امکان پر بھی غور کر رہی ہے، لیکن ایسی کسی ضمانت کی منظوری کی حتمی خبر سامنے نہیں آئی۔

اسی پس منظر میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سات اکتوبر کو بجلی کے شعبے کے ریگولیٹری نظام اور اصلاحات سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں بجلی کی طلب کے بدلتے رجحانات، شمسی توانائی کے بڑھتے استعمال، پرانی پیداواری استعداد کی ادائیگیوں، خدمات کے معیار اور سرمایہ کاری کی مشکلات کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں ایسا ضابطہ جاتی ڈھانچہ درکار ہے جو نئی ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھل سکے، صارفین کے مفادات کا تحفظ کرے اور مسابقت و نجی سرمایہ کاری کے لیے بہتر ماحول پیدا کرے۔ کمیٹی نے سبسڈی کی بہتر ہدف بندی اور قواعد میں تسلسل کے موضوعات پر بھی بات کی۔

اسی روز سندھ ہائی کورٹ نے کے الیکٹرک کے کثیر سالہ ٹیرف سے متعلق نیپرا اور اپیلیٹ ٹریبونل کے بعض احکامات معطل کرتے ہوئے فریقین کو آئندہ سماعت کے لیے نوٹس جاری کیے۔ یہ ایک عبوری عدالتی پیش رفت تھی، معاملے کا حتمی فیصلہ نہیں۔

نجکاری کے عمل کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ حکومت سرمایہ کاروں کے قانونی خدشات دور کرنے کے ساتھ صارفین کے مفادات، شفاف ضابطوں اور بجلی کی مناسب لاگت کے اہداف میں توازن کیسے قائم کرتی ہے۔