کراچی/کوئٹہ: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کی کال پر نجی شعبے کے ڈاکٹروں نے وفاقی ٹیکس اور ریگولیٹری اقدامات کے خلاف ایک روزہ ملک گیر احتجاج کیا۔ ڈان کے مطابق پی ایم اے نے دعویٰ کیا کہ کراچی، لاہور، کوئٹہ اور دیگر بڑے شہروں سمیت متعدد علاقوں میں نجی او پی ڈیز، ڈاکٹروں کی معمول کی مشاورت اور روٹین تشخیصی خدمات بند رہیں۔ تاہم ایمرجنسی رومز، آئی سی یوز، سی سی یوز اور دیگر ضروری و ہنگامی طبی خدمات جاری رکھی گئیں۔

پی ایم اے کی قیادت نے خاص طور پر نجی ہسپتالوں اور کلینکس پر پوائنٹ آف سیل، یعنی پی او ایس، نظام سے متعلق تقاضوں اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 175C کے تحت کارروائیوں پر اعتراض کیا۔ تنظیم کا موقف ہے کہ طبی خدمات کو روایتی ریٹیل کاروبار کے انداز میں ٹیکس نظام کے تحت لانا مناسب نہیں اور اس سے ڈاکٹروں کے ساتھ مریضوں پر بھی اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ یہ مؤقف پی ایم اے کا ہے؛ ایف بی آر کی متعلقہ پالیسی کی قانونی حیثیت اور اس کے حقیقی مالی اثرات الگ انتظامی و قانونی جائزے کے تابع ہیں۔

پی ایم اے کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ تنظیم نے احتجاج سے پہلے ایف بی آر اور وزارتِ خزانہ کے ساتھ بات چیت کی تھی۔ ان کے مطابق ایف بی آر کے چیئرمین سے دو ملاقاتیں اور وفاقی وزیر خزانہ سے ایک ملاقات ہوئی، لیکن تنظیم مطلوبہ پیش رفت سے مطمئن نہیں ہوئی۔ پی ایم اے نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ابتدائی ملاقات میں نجی ہسپتالوں اور کلینکس سے پی او ایس شرط واپس لینے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، جس پر بعد میں عمل نہیں ہوا۔ اس دعوے کی آزاد سرکاری تصدیق رپورٹ میں شامل نہیں تھی۔

احتجاج کو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، مختلف اسپیشلٹی سوسائٹیز اور طبی اداروں کی حمایت حاصل ہونے کی اطلاع دی گئی۔ بلوچستان میں نجی ہسپتالوں کی بندش اور بولان میڈیکل کمپلیکس کے باہر احتجاج بھی رپورٹ ہوا، جہاں ڈاکٹروں نے وفاقی اور صوبائی ریونیو اقدامات کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ نئے مالی تقاضوں سے نجی علاج کے اخراجات بڑھنے کا خطرہ ہے۔

پی ایم اے نے اعلان کیا ہے کہ 11 اکتوبر کو گجرات میں آل پاکستان ڈاکٹرز کنونشن منعقد کیا جائے گا، جہاں آئندہ حکمتِ عملی پر غور ہوگا۔ تنظیم نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اس کے مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو طویل یا غیر معینہ مدت کے احتجاج پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ یہ فی الحال آئندہ کے ممکنہ اقدام کا اعلان ہے، نہ کہ پہلے سے طے شدہ ملک گیر غیر معینہ ہڑتال۔

صحت کے شعبے میں احتجاج کا براہِ راست اثر مریضوں تک رسائی پر پڑ سکتا ہے، اس لیے ضروری اور ہنگامی خدمات کو جاری رکھنے کی تصدیق اہم ہے۔ دستیاب رپورٹ میں پی ایم اے نے ملک بھر میں نجی معمول کی خدمات متاثر ہونے کا دعویٰ کیا، لیکن ہر شہر اور ہر نجی ادارے کی الگ سطح پر بندش کی آزادانہ فہرست سامنے نہیں آئی۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ پی ایم اے کی کال پر ایک روزہ احتجاج ہوا، متعدد مقامات پر نجی او پی ڈیز اور معمول کی خدمات متاثر ہوئیں، ہنگامی خدمات جاری رہیں، اور تنظیم نے 11 اکتوبر کے کنونشن کے ذریعے اگلے مرحلے پر فیصلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔