کراچی: سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے 27 ملازمین کو ان کی تعلیمی اسناد جعلی ثابت ہونے کے بعد ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ کمیٹی کے اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ یونیورسٹی کے مجموعی 5,350 ملازمین میں سے تقریباً 3,400 کی ڈگریوں کی تصدیق اب بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعے ہونا باقی ہے۔
نثار احمد کھوڑو کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں یونیورسٹی کے 2024 اور 2025 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کے سامنے پیش کردہ معلومات کے مطابق تقریباً 1,945 ملازمین کی تعلیمی اسناد کی تصدیق مکمل ہو چکی ہے اور انہی میں 27 ڈگریاں جعلی پائی گئیں۔ کمیٹی کے چیئرمین نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر بھرتی ہونے والے ان ملازمین کو ادا کی گئی مکمل تنخواہیں واپس وصول کی جائیں۔
آڈٹ اعتراضات میں کہا گیا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے بھرتی کیے گئے ملازمین کی ڈگریوں کی بروقت تصدیق نہیں کرائی اور اس معاملے پر آڈٹ سوالات کا جواب بھی نہیں دیا۔ یونیورسٹی کے فنانس ڈائریکٹر نے کمیٹی کو بتایا کہ ایچ ای سی کے ذریعے ڈگریوں کی تصدیق کا عمل 73 لاکھ 60 ہزار روپے کی لاگت سے ایک کمپنی کو آؤٹ سورس کیا گیا ہے۔ وائس چانسلر نازلی حسین کے مطابق تدریسی ڈاکٹروں کی 70 فیصد سے زیادہ ڈگریاں تصدیق ہو چکی ہیں جبکہ باقی عمل میں ہیں۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے صرف ڈاؤ یونیورسٹی تک معاملہ محدود نہیں رکھا بلکہ سندھ کی تمام سرکاری جامعات کے تدریسی اور دیگر ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق سے متعلق رپورٹ بھی طلب کی ہے۔ اس ہدایت کا مقصد سرکاری جامعات میں تعلیمی اسناد کی جانچ کے نظام اور بھرتی کے طریقہ کار کی نگرانی کو وسیع کرنا ہے۔
اجلاس میں ڈاؤ یونیورسٹی کے مالی معاملات بھی زیر بحث آئے۔ انتظامیہ نے بتایا کہ ادارے کا سالانہ بجٹ تقریباً 26 ارب روپے ہے اور تعلیمی خدمات، ریڈیالوجی، لیبارٹری اور دیگر ذرائع سے سالانہ تقریباً 25 ارب روپے آمدن حاصل ہوتی ہے، جس میں طلبہ کی فیس سے 4.5 ارب روپے شامل ہیں۔ کمیٹی نے ڈاکٹر رتھ فاؤ سول ہسپتال کراچی کی حالت پر بھی عدم اطمینان ظاہر کیا۔ جعلی ڈگریوں سے متعلق اعداد یونیورسٹی حکام کی کمیٹی کو دی گئی بریفنگ پر مبنی ہیں؛ باقی 3,400 اسناد کے بارے میں تصدیقی عمل مکمل ہونے سے پہلے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا۔

