کراچی: ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے جعلی یا غیر معتبر تعلیمی اسناد سامنے آنے کے بعد 27 ملازمین کو ملازمت سے برطرف کردیا ہے، جبکہ ادارے کے تقریباً 3,400 ملازمین کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ یہ معلومات سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے یونیورسٹی کے مالی اور انتظامی معاملات کے جائزے کے دوران پیش کی گئیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملازمین کی ڈگریوں اور دیگر تعلیمی دستاویزات کی متعلقہ جامعات اور اداروں سے تصدیق کرائی جا رہی ہے۔ جن 27 ملازمین کے خلاف کارروائی کی گئی، ان کی اسناد کی جانچ کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے انہیں ملازمت سے الگ کیا۔ باقی ملازمین کی تصدیق مکمل ہونے تک مزید نتائج سامنے آسکتے ہیں، تاہم ہر فرد کے بارے میں فیصلہ اس کے ریکارڈ اور متعلقہ ادارے کی تصدیق پر منحصر ہوگا۔

سرکاری اور خودمختار اداروں میں تعلیمی اسناد کی تصدیق بھرتی کے نظام کی ساکھ سے براہ راست جڑی ہوتی ہے۔ جعلی ڈگری یا غلط دستاویز کی بنیاد پر ملازمت حاصل کرنے کا معاملہ صرف انتظامی خلاف ورزی نہیں بلکہ متعلقہ قوانین کے تحت مزید قانونی کارروائی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ تاہم کسی فرد پر فوجداری ذمہ داری کا تعین الگ قانونی عمل اور شواہد کے مطابق کیا جاتا ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی صوبائی اداروں کے اخراجات، آڈٹ اعتراضات اور انتظامی بے ضابطگیوں کا جائزہ لیتی ہے۔ ڈاؤ یونیورسٹی کے معاملے میں ملازمین کی اسناد کی بڑے پیمانے پر تصدیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ادارہ سابقہ اور موجودہ انسانی وسائل کے ریکارڈ کو دوبارہ جانچ رہا ہے۔ کمیٹی کے ارکان نے اس عمل کی تکمیل اور نتائج سے متعلق جوابدہی پر زور دیا۔

تعلیمی اداروں کے لیے یہ معاملہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ تدریس، طبی تربیت، تحقیق اور انتظامی ذمہ داریوں میں ملازمین کی اہلیت براہ راست ادارے کے معیار اور عوامی اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔ ڈاؤ یونیورسٹی ملک کے بڑے طبی تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے اور اس کے مختلف شعبوں میں بڑی تعداد میں تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین کام کرتے ہیں۔

اسناد کی تصدیق کا جاری عمل مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ باقی 3,400 ملازمین میں مزید کتنے معاملات میں مسئلہ سامنے آتا ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ کارروائی 27 برطرفیوں تک محدود ہے، اس لیے زیرِ جانچ ملازمین کو کسی بے ضابطگی کا مرتکب قرار دینا درست نہیں ہوگا جب تک متعلقہ ادارے ان کی اسناد کے بارے میں حتمی نتیجہ جاری نہ کریں۔