اسلام آباد: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے عام استعمال کی صحت مصنوعات کی آٹھ اقسام کو سخت ریگولیٹری نگرانی کے دائرے میں لانے کے لیے نیا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اور ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹس کے مطابق اس اقدام کا مقصد مصنوعات کے معیار اور عوامی صحت کے تحفظ کو بہتر بنانا ہے۔ دستیاب تفصیلات میں وٹامنز، غذائی سپلیمنٹس، میڈیکیٹڈ صابن، شیمپو اور شیر خوار بچوں کے لیے خصوصی دودھ کو شامل مصنوعات کی مثالوں کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

نئے فریم ورک کے تحت نوٹیفکیشن میں آنے والی مصنوعات کو پاکستان میں تیار یا مارکیٹ کیے جانے سے پہلے قابل اطلاق رجسٹریشن، منظوری اور کوالٹی کنٹرول کی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق خاص توجہ ان مصنوعات پر ہے جو طبی، علاجی یا صحت سے متعلق دعووں کے ساتھ فروخت کی جاتی ہیں، تاکہ ایسے دعووں والی اشیا مقررہ معیار اور حفاظتی تقاضوں کے مطابق ہوں۔

اے پی پی کے مطابق متعلقہ نوٹیفکیشن S.R.O. 1688(I)/2026 چھ اکتوبر 2026 کو جاری کیا گیا تھا اور اس کے ذریعے مخصوص ہیلتھ اور اوور دی کاؤنٹر مصنوعات کو therapeutic goods کے طور پر ریگولیٹری دائرے میں واضح کیا گیا ہے۔ صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے اس اقدام کو معیار، حفاظت اور ضابطہ جاتی جواب دہی بہتر بنانے کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سخت نگرانی سے مینوفیکچرنگ کے عمل، مصنوعات کی ترکیب، لیبلنگ اور کوالٹی اسٹینڈرڈز کی جانچ میں اضافہ متوقع ہے۔ اس کا مقصد ناقص، جعلی یا غیر معیاری اشیا، خصوصاً طبی یا جراثیم کش دعووں کے ساتھ فروخت ہونے والی مصنوعات، کے خلاف نگرانی کو مؤثر بنانا بھی ہے۔

ڈریپ کے اقدام کا عملی اثر مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان پر بھی پڑے گا کیونکہ متعلقہ مصنوعات کے لیے قابل اطلاق منظوری اور معیار کی شرائط کی پابندی ضروری ہوگی۔ صارفین کے لیے اس تبدیلی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مارکیٹ میں دستیاب صحت سے متعلق مصنوعات کی شناخت، معیار اور حفاظتی نگرانی زیادہ واضح ہو۔ دستیاب سرکاری رپورٹ میں آٹھوں زمروں کی مکمل فہرست شائع نہیں کی گئی، اس لیے یہاں صرف وہی مصنوعات درج کی گئی ہیں جن کا معتبر ذرائع میں واضح ذکر موجود ہے۔