اسلام آباد: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کو ادویات کی قیمتوں سے متعلق بعض تجاویز، جن میں انفلوئنزا ویکسین کی مجوزہ قیمت بھی شامل ہے، دوبارہ جانچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ان تجاویز کے تفصیلی جائزے کے بعد سامنے آیا جس میں بعض حسابات، حوالہ جاتی قیمتوں اور لاگت کے تخمینوں کی مزید تصدیق ضروری سمجھی گئی۔

جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کو وزیراعظم شہباز شریف نے ڈریپ کی 52 قیمت تجاویز کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی تھی۔ وزیر نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے ڈریپ حکام کے ساتھ متعدد اجلاسوں میں قیمت طے کرنے کے لیے استعمال ہونے والے مفروضوں، ریفرنس پرائسز اور حسابات کا جائزہ لیا۔ اس عمل کے دوران بعض تجاویز میں ایسی عدم مطابقت سامنے آئی جس کے باعث انہیں دوبارہ ڈریپ کے پاس بھیجا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 52 میں سے 42 تجاویز پہلے سے موجود ادویات کی نئی strengths یا خوراکی شکلوں سے متعلق ہیں۔ ایسے معاملات میں ریگولیٹر کو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ نئی strength کی قیمت اسی دوا کی موجودہ شکلوں، پیداواری یا درآمدی لاگت اور مقررہ قیمت پالیسی کے ساتھ کس حد تک مطابقت رکھتی ہے۔

انفلوئنزا ویکسین کی قیمت خاص طور پر زیر بحث آئی کیونکہ جائزہ لینے والی ٹیم نے درآمدی لاگت اور مجوزہ زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت کے درمیان تعلق کی مزید جانچ ضروری سمجھی۔ حکام نے قیمت بڑھانے کی تجویز کو حتمی فیصلہ قرار نہیں دیا؛ دوبارہ جائزے کے بعد ڈریپ اپنی نظرثانی شدہ سفارشات پیش کرے گا۔

ادویات کی قیمتوں کا تعین مریضوں کی رسائی اور دوا ساز صنعت کی سپلائی دونوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ بہت کم قیمت بعض مصنوعات کی دستیابی کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ غیر ضروری اضافے سے مریضوں پر مالی بوجھ بڑھتا ہے۔ اسی لیے ریگولیٹری عمل میں لاگت، بین الاقوامی یا مقامی حوالہ جاتی قیمتوں اور مارکیٹ دستیابی کی جانچ اہم سمجھی جاتی ہے۔

نظرثانی مکمل ہونے کے بعد سفارشات وفاقی کابینہ کے سامنے حتمی منظوری کے لیے پیش کیے جانے کی توقع ہے۔ جب تک یہ عمل مکمل نہیں ہوتا، زیر جائزہ تجاویز کو منظور شدہ نئی خوردہ قیمتیں نہیں سمجھا جا سکتا۔ حکومت کے مطابق مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ حتمی فیصلہ درست حسابات اور قابل تصدیق لاگت کی بنیاد پر ہو۔