کراچی: سندھ حکومت نے میر رضا کے قتل کے معاملے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کی تیاری شروع کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے افسران کی نامزدگیاں طلب کر لی ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق صوبائی محکمہ داخلہ نے مختلف اداروں کو مراسلے بھیجے ہیں تاکہ مجوزہ تحقیقاتی ٹیم میں مناسب نمائندگی شامل کی جا سکے۔

یہ پیش رفت قتل کے واقعے کی تحقیقات کو متعدد اداروں کی مشترکہ نگرانی میں آگے بڑھانے کی کوشش کا حصہ ہے۔ جے آئی ٹی کی تشکیل کے لیے نامزدگیاں طلب کرنا ابتدائی انتظامی مرحلہ ہے؛ ٹیم کی حتمی تشکیل، اس کے ارکان اور دائرہ کار متعلقہ حکومتی نوٹیفکیشن کے بعد واضح ہوں گے۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں عموماً ایسے مقدمات میں قائم کی جاتی ہیں جہاں مختلف نوعیت کی تفتیشی مہارت، ادارہ جاتی معلومات یا متعدد پہلوؤں کی بیک وقت جانچ درکار ہو۔ ایسی ٹیم کا کام دستیاب شواہد، بیانات، فرانزک مواد اور دیگر متعلقہ معلومات کا جائزہ لے کر تفتیش کو آگے بڑھانا ہوتا ہے۔ تاہم جے آئی ٹی کا قیام بذات خود کسی شخص کے جرم یا بے گناہی کا تعین نہیں کرتا۔

میر رضا قتل کیس سے متعلق جو بھی الزامات یا شبہات تحقیقات میں سامنے آئیں گے، انہیں قانونی طور پر ثابت شدہ نتیجہ اس وقت تک نہیں سمجھا جا سکتا جب تک متعلقہ عدالتی اور قانونی عمل مکمل نہ ہو۔ اسی طرح کسی فرد کی نامزدگی، پوچھ گچھ یا تفتیش میں شمولیت کو سزا یا حتمی عدالتی فیصلہ تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔

سندھ حکومت کی جانب سے نامزدگیاں طلب کیے جانے کے بعد اگلا اہم مرحلہ جے آئی ٹی کی باضابطہ تشکیل اور اس کے قواعد کار کا اعلان ہوگا۔ تحقیقاتی ٹیم کے نتائج دستیاب شواہد اور قانونی طریقہ کار پر منحصر ہوں گے۔ موجودہ مرحلے پر تصدیق شدہ پیش رفت یہی ہے کہ صوبائی حکومت نے مشترکہ تحقیقات کے لیے ادارہ جاتی عمل شروع کر دیا ہے۔