اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان کے لیے سابق امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے جن میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان افغان شہریوں کو طالبان حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے مسلح کر رہا ہے۔ وزارت اطلاعات نے اپنے ردعمل میں ان دعوؤں کو بے بنیاد اور قیاس آرائی پر مبنی قرار دیا۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزارت اطلاعات نے کہا کہ خلیل زاد کے بیانات میں ایسے عمومی دعوے کیے گئے ہیں جن کے حق میں قابل تصدیق ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔ وزارت نے الزام لگایا کہ سابق امریکی سفارت کار اپنی ذاتی سیاسی رائے اور طالبان حکومت کے حق میں بیانیے کو تقویت دینے کے لیے پاکستان سے متعلق قیاس آرائیوں کو دہرا رہے ہیں۔
خلیل زاد نے سوشل میڈیا پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں الزامات عائد کیے تھے۔ پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ افغانستان سے متعلق اسلام آباد کی بنیادی تشویش سرحد پار دہشت گردی اور ان گروہوں کی سرگرمیاں ہیں جو پاکستانی سکیورٹی فورسز اور شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ پاکستان ماضی میں بھی افغان حکام سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔
وزارت اطلاعات کے ردعمل کو ایک سرکاری تردید کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ خلیل زاد کے الزامات اور پاکستانی حکومت کی تردید دو مختلف فریقوں کے دعوے ہیں؛ دستیاب رپورٹ میں ایسا آزادانہ ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس کی بنیاد پر الزام کو ثابت شدہ حقیقت قرار دیا جا سکے۔ اسی لیے اس معاملے میں الزامات اور تصدیق شدہ اقدامات کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات حالیہ عرصے میں سرحدی سکیورٹی، عسکریت پسند گروہوں اور سفارتی کشیدگی کے باعث دباؤ کا شکار رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں سابق یا موجودہ سفارتی شخصیات کے بیانات علاقائی بحث کو مزید متاثر کر سکتے ہیں۔ پاکستانی حکومت نے تازہ ردعمل میں اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے خلیل زاد کے دعوؤں کو واضح طور پر مسترد کیا ہے۔
