اسلام آباد: انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق 11 سے 17 اکتوبر کے دوران پاکستان کے مختلف علاقوں میں 517 افغان شہری گرفتار یا زیر حراست لیے گئے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق کارروائیوں میں غیر دستاویزی افغان شہری، افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے اور محدود تعداد میں پروف آف رجسٹریشن کارڈ رکھنے والے افراد شامل تھے۔
مشترکہ رپورٹ کے مطابق زیر جائزہ ہفتے میں گرفتاریوں اور حراست کے واقعات کا بڑا حصہ بلوچستان، پنجاب اور خیبرپختونخوا سے رپورٹ ہوا۔ چاغی، پشاور اور کراچی سے متعلق اعداد میں غیر دستاویزی افراد اور افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والوں کا تناسب نمایاں تھا۔ رپورٹ نے واضح کیا کہ مختلف دستاویزی حیثیت رکھنے والے افغان شہریوں کے اعداد الگ الگ درج کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 11 سے 17 اکتوبر کے دوران طورخم، چمن اور بہرامچہ سرحدی راستوں سے مجموعی طور پر 3,883 افغان شہری افغانستان واپس گئے، جن میں 499 افراد کی واپسی ڈیپورٹیشن کے زمرے میں درج کی گئی۔ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں مجموعی واپسی میں 10 فیصد اور ڈیپورٹیشن میں 48 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
واپس جانے والوں میں اکثریت غیر دستاویزی افراد کی تھی، جبکہ افغان سٹیزن کارڈ اور پروف آف رجسٹریشن رکھنے والے افراد بھی شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق پروف آف رجسٹریشن رکھنے والے بہت سے افراد کی رضاکارانہ واپسی یو این ایچ سی آر کے متعلقہ مراکز کے ذریعے عمل میں آئی۔
آئی او ایم کے ڈیٹا کے مطابق ستمبر 2023 سے 17 اکتوبر 2026 تک پاکستان سے افغانستان واپس جانے والوں کی مجموعی تعداد 27 لاکھ سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ اعداد انتظامی اور انسانی نقل و حرکت کی رپورٹنگ پر مبنی ہیں؛ ان سے ہر انفرادی گرفتاری کی قانونی حیثیت یا کسی مخصوص شخص کے کیس کے نتیجے کے بارے میں نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

