بلوچستان کے ضلع دکی میں ایک کوئلہ کان کے اندر زہریلی گیس جمع ہونے سے دو کان کن جاں بحق اور چار دیگر مزدور بے ہوش ہو گئے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق واقعہ دکی کول فیلڈ کے تھانڈک علاقے میں پیش آیا، جہاں چھ مزدور کان کی گہرائی میں کام کر رہے تھے۔ حکام نے بتایا کہ میتھین گیس جمع ہونے سے تمام چھ افراد متاثر ہوئے اور دو مزدور گیس سانس میں جانے کے باعث جانبر نہ ہو سکے۔

رپورٹ میں جاں بحق مزدوروں کی شناخت محبت اللہ اور رومی محمد کے نام سے کی گئی ہے۔ امدادی کارکنوں نے تلاش اور ریسکیو کارروائی کے دوران چار دیگر کان کنوں کو بے ہوشی کی حالت میں باہر نکالا۔ انہیں علاج کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال دکی منتقل کیا گیا۔ متاثرہ مزدوروں کی بعد کی طبی حالت کے بارے میں رپورٹ میں مزید تفصیل موجود نہیں، اس لیے ان کی صحت سے متعلق کوئی اضافی دعویٰ شامل نہیں کیا گیا۔

حکام نے واقعے کے بعد متعلقہ کان کو بند کر دیا اور تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تفتیش سے یہ واضح ہونا باقی ہے کہ گیس کی نگرانی، وینٹی لیشن، حفاظتی آلات اور ہنگامی ردعمل کے انتظامات کس حالت میں تھے۔ اس مرحلے پر کسی شخص یا ادارے کی غفلت کو حتمی طور پر ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے واقعے کی وجہ کو زہریلی میتھین گیس کے فوری اثر اور حکام کے ابتدائی بیان تک محدود رکھنا ضروری ہے۔

اسی رپورٹ میں ایک الگ سابقہ سانحے کے متاثرین کے لیے امداد کا ذکر بھی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے 30 جولائی کو کوئٹہ کے قریب کان حادثے میں جاں بحق ہونے والے 34 مزدوروں کے خاندانوں کو فی خاندان 20 لاکھ روپے کے امدادی چیک تقسیم کیے۔ یہ امداد دکی کے تازہ واقعے کے متاثرین کے لیے اعلان نہیں، بلکہ پہلے حادثے کے خاندانوں سے متعلق الگ اقدام ہے؛ دونوں واقعات کو ملانا درست نہیں ہوگا۔

اردو ہیڈ لائنز نے موت اور صنعتی حادثے کی حساس نوعیت کے باعث ڈان کی براہِ راست دیکھی گئی رپورٹ میں موجود حکام کے بیانات ہی استعمال کیے ہیں۔ تصویر کو غیر گرافک اور علامتی رکھا گیا ہے۔ کان کی تحقیقات، چار مزدوروں کی طبی حالت یا متاثرہ خاندانوں کے لیے کسی نئی امداد کی تصدیق سامنے آنے پر اسی خبر کو مادی طور پر اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔