بنگلورو: رائٹرز کے تازہ سروے میں اقتصادی ماہرین کی بڑی اکثریت نے پیش گوئی کی ہے کہ یورپی مرکزی بینک، یعنی ای سی بی، دسمبر میں پالیسی شرح سود میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ یہ اندازے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب یورو زون میں مہنگائی مرکزی بینک کے دو فیصد ہدف سے کافی زیادہ ہے اور توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔ واضح رہے کہ سروے کے نتائج ماہرین کی توقعات ہیں، مرکزی بینک کا باضابطہ فیصلہ نہیں۔

پانچ سے آٹھ اکتوبر کے دوران کیے گئے رائٹرز کے سروے میں 73 اقتصادی ماہرین نے شرکت کی۔ ان میں سے 70 نے توقع ظاہر کی کہ 29 اکتوبر کے اجلاس میں ای سی بی ڈپازٹ شرح سود 2.50 فیصد پر برقرار رکھے گا۔ تاہم 64 ماہرین نے پیش گوئی کی کہ دسمبر میں شرح 25 بیسس پوائنٹس بڑھائی جا سکتی ہے۔ گزشتہ ماہ کے سروے میں زیادہ تر ماہرین شرح برقرار رہنے کے حامی تخمینے دے رہے تھے، اس لیے توقعات میں یہ تبدیلی اہم ہے۔

ستمبر میں یورو زون کی افراط زر 3.8 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو دو فیصد کے ہدف سے تقریباً دوگنی ہے۔ رائٹرز کے مطابق ای سی بی نے اس سال دوسری بار ستمبر میں شرح سود بڑھائی تھی۔ عالمی سرکاری بانڈز کی پیداوار بڑھنے سے قرض لینے کی لاگت پہلے ہی اوپر جا رہی ہے، جس سے مالیاتی پالیسی بنانے والوں کو مہنگائی کے ساتھ اقتصادی ترقی کے خدشات بھی دیکھنا پڑ رہے ہیں۔

سروے میں شرکت کرنے والے 70 میں سے 40 ماہرین نے توقع کی کہ ای سی بی کی ڈپازٹ شرح بلند ترین سطح پر 2.75 فیصد تک جا سکتی ہے، جبکہ 24 ماہرین نے تین فیصد تک پہنچنے کا اندازہ ظاہر کیا۔ یہ پیش گوئیاں مختلف معاشی مفروضوں پر مبنی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق مورگن اسٹینلے کے ماہر جینز آئزن شمٹ نے دسمبر میں ممکنہ اضافے کے ساتھ مارچ میں ایک اور اقدام کے خطرے کی طرف بھی اشارہ کیا، تاہم ایسا نتیجہ یقینی نہیں۔

سروے کے درمیانی تخمینے کے مطابق رواں سہ ماہی میں مہنگائی کی اوسط 3.7 فیصد ہو سکتی ہے، جبکہ رواں اور آئندہ سال کی اوسط بالترتیب تین اور 2.6 فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔ اقتصادی نمو کے بارے میں بھی پیش گوئی قدرے بہتر ہوئی اور یورو زون کے لیے رواں سال ایک فیصد، 2027 میں 1.2 فیصد اور 2028 میں 1.3 فیصد ترقی متوقع بتائی گئی۔

ای سی بی کی صدر کرسٹین لاگارڈ نے مہنگائی اور بڑھتی بانڈ پیداوار کے درمیان محتاط ردعمل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق توانائی کے اضافی اخراجات اگر دیگر اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں زیادہ واضح طور پر منتقل ہوئے تو مزید شرح سود بڑھانے کا جواز مضبوط ہو سکتا ہے۔ فی الحال آئندہ اجلاسوں کے فیصلے نئے اعداد و شمار، مہنگائی کی رفتار اور مالیاتی منڈی کے حالات کے مطابق طے ہوں گے۔