اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 200,000 میٹرک ٹن اضافی چینی برآمد کرنے کی منظوری دے دی۔ نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ سمری پر غور کے بعد کمیٹی نے شوگر اسٹیئرنگ کمیٹی کی سفارشات منظور کیں اور واضح کیا کہ برآمد کے ساتھ مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات ضروری ہوں گے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب حکومت حالیہ ہفتوں میں چینی کے درآمدی اور برآمدی انتظامات کا دوبارہ جائزہ لیتی رہی ہے۔ اس سے پہلے بھی سرکاری اداروں کو اضافی یا پہلے درآمد کیے گئے ذخائر کے بارے میں اقدامات کی اجازت دی گئی تھی۔ تازہ منظوری کا تعلق 200,000 میٹرک ٹن اضافی چینی سے ہے، تاہم دستیاب سرکاری تفصیلات میں برآمد کی مکمل مدت، خریدار ممالک یا حتمی برآمدی قیمت کی کوئی ایک جامع تفصیل نہیں دی گئی۔ اس لیے ان نکات کو طے شدہ نتیجے کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے یہ منظوری اس شرط کے ساتھ دی کہ ملکی منڈی میں چینی کی دستیابی اور قیمت پر منفی اثر نہ پڑے۔ حکومت کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہوگا کہ برآمدی اجازت کے عملی نفاذ کے دوران ذخائر، رسد اور خوردہ قیمتوں کی نگرانی برقرار رکھی جائے۔ اگر مقامی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ یا رسد کی کمی سامنے آتی ہے تو متعلقہ حفاظتی طریقہ کار کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔

اسی اجلاس میں ای سی سی نے وزیراعظم کے فیول ریلیف اسکیم کے لیے 75 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ، ریفائنری اپ گریڈیشن سے متعلق مسودہ معاہدے اور دیگر اقتصادی امور پر بھی فیصلے کیے۔ کمیٹی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے آئندہ کونسل اجلاس کے سکیورٹی انتظامات کے لیے بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے 3 ارب روپے کی گرانٹ کی بھی منظوری دی۔ یہ فیصلے چینی کی برآمد سے الگ انتظامی و مالی اقدامات ہیں۔

چینی کی برآمد کا فیصلہ ملکی زرعی اجناس کی پالیسی، حکومتی ذخائر اور صارف قیمتوں کے درمیان توازن کے تناظر میں اہم ہے۔ ماضی میں چینی کی دستیابی اور قیمتوں پر سیاسی اور عوامی بحث ہوتی رہی ہے، اس لیے تازہ اجازت کے اثرات کا اندازہ صرف برآمدی مقدار سے نہیں بلکہ مقامی اسٹاک، پیداوار، طلب اور مارکیٹ قیمتوں کے اعداد و شمار سے لگایا جائے گا۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہی ہے کہ ای سی سی نے 200,000 میٹرک ٹن اضافی چینی کی برآمد کی اصولی اجازت مناسب قیمت تحفظات کے ساتھ دے دی ہے۔