اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے تقریباً 380 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس کی منظوری دے دی ہے، جن میں مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے پانچ بڑے آبی منصوبوں کے لیے 275 ارب روپے اور مسلح افواج سے متعلق ضروریات کے لیے تقریباً 84 ارب روپے شامل ہیں۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کی۔
دستیاب سرکاری تفصیلات اور اجلاس سے متعلق رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے دفاع ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی تین سمریوں پر بھی فیصلے کیے۔ ای سی سی نے کفایت شعاری اور ایندھن کی بچت سے حاصل ہونے والی 15.625 ارب روپے کی بچت کو وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026 میں منتقل کرنے کی منظوری دی۔ حکومت نے اس اقدام کو مالی نظم و ضبط اور سرکاری وسائل کے محتاط استعمال کی پالیسی سے جوڑا ہے۔
کمیٹی نے پنجاب میں قائم فاطمہ اور ایگری ٹیک کھاد پلانٹس کو دستیابی سے مشروط کرتے ہوئے 31 دسمبر تک گیس کی فراہمی جاری رکھنے کی اجازت بھی دی۔ یہ فیصلہ زرعی شعبے کے لیے کھاد کی رسد کے تسلسل کے تناظر میں اہم ہے، تاہم گیس کی فراہمی دستیاب مقدار سے مشروط رہے گی۔
کامرس ڈویژن کی سمری پر کیمرہ رکھنے والے سمارٹ گلاسز کی درآمد پر پابندیوں کی منظوری دی گئی اور صوبائی حکومتوں اور اسلام آباد کی انتظامیہ کو ایسے آلات کے کام کی جگہوں پر استعمال کے لیے مناسب قواعد بنانے کی سفارش کی گئی۔
ای سی سی نے تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار سے متعلق قواعد میں نرمی کرتے ہوئے 89 پٹرولیم حقوق کی توسیع اور تجدید کی بھی منظوری دی، بشرطیکہ مقررہ شرائط پوری کی جائیں۔ اس کے علاوہ مالی سال 2026-27 میں گیس پیدا کرنے والے فیلڈز کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں واقع دیہات کی گیس فراہمی کے لیے ایک ارب روپے کی گرانٹ منظور کی گئی۔ اس رقم کا مقصد متعلقہ آبادیوں تک گیس انفراسٹرکچر کی توسیع اور بنیادی توانائی سہولت کی رسائی بہتر بنانا ہے۔
ای سی سی کے یہ فیصلے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب حکومت ترقیاتی منصوبوں کی مالی ضروریات، دفاعی اخراجات، توانائی کی دستیابی اور مالی نظم و ضبط کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ منظوری کے بعد متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو قواعد اور شرائط کے مطابق فنڈز کے استعمال اور فیصلوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔
