لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے مالیاتی اداروں کے قرضوں میں مبینہ دانستہ نادہندگی سے متعلق ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) اس وقت تک کسی بینک صارف کے خلاف اس الزام پر فوجداری کارروائی شروع نہیں کر سکتا جب تک متعلقہ بینکنگ کورٹ سول کارروائی میں پہلے یہ طے نہ کر دے کہ معاملہ واقعی دانستہ نادہندگی کا ہے۔

جسٹس جواد حسن اور جسٹس عابد حسین چٹھہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے قیصر شبیر اور دیگر درخواست گزاروں کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے یہ اصول وضع کیا۔ درخواست گزاروں نے مالیاتی اداروں کی شکایات پر فنانشل انسٹی ٹیوشنز (ریکوری آف فنانسز) آرڈیننس 2001 کی دفعہ 20(7) کے تحت ایف آئی اے کی جانب سے جاری نوٹسز کو چیلنج کیا تھا۔ متعلقہ مالیاتی ادارے قرضوں کی وصولی کے لیے پہلے ہی درخواست گزاروں کے خلاف مقدمات دائر کر چکے تھے۔

عدالت نے واضح کیا کہ محض ریکوری سوٹ میں واجب الادا رقم کا تعین ہونا دانستہ نادہندگی ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ فیصلے کے مطابق wilful default عام نادہندگی سے الگ نوعیت رکھتا ہے اور اس کے سول کے ساتھ فوجداری نتائج بھی ہو سکتے ہیں، اس لیے قانونی تقاضوں اور ابتدائی عدالتی تعین کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے یہ اعتراض بھی مسترد کیا کہ فوجداری ضابطے کی دفعہ 160 کے تحت جاری نوٹسز کو اصولاً چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ بینچ نے قرار دیا کہ اگر کوئی نوٹس دائرہ اختیار کے بغیر، بدنیتی سے یا بنیادی قانون کے منافی جاری کیا جائے تو عدالتی نظرثانی کا راستہ کھلا رہتا ہے۔

فیصلے میں 2019 کے ایک سابقہ لاہور ہائیکورٹ فیصلے سے اس حد تک اختلاف کیا گیا جس میں آرڈیننس کی بعض دفعات کے تحت کارروائی کے لیے پہلے سول تعین کو ضروری نہیں سمجھا گیا تھا۔ بینچ نے اس طریقے کو بھی نامناسب قرار دیا کہ فوجداری کارروائی شروع کرکے بعد میں اسے روک دیا جائے، کیونکہ اس سے مالیاتی اداروں کو غیر متعین رقم کی وصولی کے لیے ایف آئی آر اور گرفتاری جیسے اقدامات استعمال کرنے کا یکطرفہ اور دباؤ پر مبنی اختیار مل سکتا ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ اس معاملے میں ایف آئی اے کے اختیارات کا ماخذ متعلقہ مالیاتی آرڈیننس اور قواعد ہیں۔ فیصلے کے بعد دانستہ نادہندگی کے مقدمات میں سول اور فوجداری کارروائی کی ترتیب کے بارے میں ایک واضح عدالتی معیار سامنے آیا ہے۔