کراچی: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے کہا ہے کہ حکومت سپر ٹیکس کو بتدریج ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس سمت میں کام شروع ہو چکا ہے۔ ڈان کی 5 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے ارکان سے خطاب میں بتایا کہ سپر ٹیکس کی شرح پہلے ہی دو فیصد کم کی جا چکی ہے۔

ایف بی آر چیئرمین نے ٹیکس نظام میں بہتری اور کاروباری برادری کو سہولت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اعلان کیا کہ کورنگی صنعتی علاقے کے صنعتکاروں کو درپیش ٹیکس مسائل کے حل کے لیے کاٹی میں ایف بی آر کا دفتر قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق خام مال کی درآمد کے نظام میں موجود خامیوں سے متعلق متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی جائے گی، جبکہ ایف بی آر ہیلپ ڈیسک کا دائرہ کراچی سے سکھر تک بڑھانے کی بھی بات کی گئی۔

راشد محمود لنگڑیال نے چمڑے کی صنعت کو سرحدی تجارت میں درپیش مسائل کے حل کے لیے اجلاس منعقد کرنے کا ذکر کیا۔ انہوں نے ادویہ سازی کے شعبے میں ٹریک اینڈ ٹریس نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان سے ملتے جلتے ماڈل پر بھی گفتگو کی۔ ان اقدامات کا مقصد ٹیکس انتظامیہ اور صنعتی شعبے کے درمیان عملی رابطہ بہتر بنانا بتایا گیا۔

ایف بی آر چیئرمین نے صنعتکاروں اور کاروباری برادری سے ٹیکس چوری کی نشاندہی اور اس کے خاتمے میں تعاون کی اپیل بھی کی تاکہ نظام کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔ کاٹی کے صدر شیخ عمر ریحان نے صنعتی شعبے کے ٹیکس مسائل کے فوری حل اور ادارہ جاتی رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کمیٹی کے قیام کی تجویز پیش کی۔

سپر ٹیکس کے ممکنہ بتدریج خاتمے سے متعلق بیان فی الحال پالیسی سمت کا عندیہ ہے؛ رپورٹ میں اس کے مکمل خاتمے کی حتمی تاریخ یا تفصیلی مرحلہ وار شیڈول نہیں دیا گیا۔ اس لیے اسے فوری خاتمے کے فیصلے کے بجائے حکومت اور ایف بی آر کی زیرِ غور ٹیکس پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔