کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے کاروباری سیشن کے دوران نمایاں تیزی دیکھی گئی اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 172 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر کے بند ہوا۔ ڈان کے مطابق انڈیکس 3,994.62 پوائنٹس، یعنی 2.38 فیصد اضافے کے ساتھ 172,013.48 پوائنٹس پر بند ہوا، جس سے مارکیٹ نے ایک ہی سیشن میں کئی اہم مزاحمتی سطحیں عبور کیں۔

رپورٹ کے مطابق سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کی بڑی وجوہ میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی میں ممکنہ کمی کی توقعات، عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی اور ادارہ جاتی خریداری شامل تھیں۔ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال اور ایران سے متعلق فوری فوجی کارروائی کے خدشات میں کمی نے بھی عالمی سطح پر خطرے کے تصور کو نسبتاً کم کیا، جس کا اثر مقامی مارکیٹ کے مزاج پر پڑا۔ یہ عوامل تجزیہ کاروں کی تشریح ہیں اور مستقبل کی مارکیٹ سمت کی ضمانت نہیں۔

کاروبار میں تیزی چند حصص تک محدود نہیں رہی۔ کمرشل بینکوں، کھاد، سیمنٹ اور توانائی سمیت اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔ یونائیٹڈ بینک، فوجی فرٹیلائزر، حب پاور، لکی سیمنٹ اور نیشنل بینک نے مجموعی طور پر انڈیکس میں تقریباً 1,215 پوائنٹس کا مثبت حصہ ڈالا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ بڑے وزن رکھنے والے حصص نے مارکیٹ کی مجموعی پیش رفت میں نمایاں کردار ادا کیا۔

سرمایہ کاروں کی شرکت میں بھی اضافہ ہوا۔ مجموعی کاروباری حجم 62.67 فیصد بڑھ کر 841 ملین حصص تک پہنچ گیا، جبکہ حصص کی تجارت کی مالیت 70.94 فیصد اضافے سے 35.3 ارب روپے رہی۔ عالمی خام تیل کی قیمتوں میں تیز کمی نے پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے مہنگائی اور بیرونی ادائیگیوں سے متعلق توقعات پر مثبت اثر ڈالا۔

مارکیٹ ماہرین نے تیزی برقرار رہنے کے امکان کے ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ بلند سطحوں پر منافع کے حصول کے لیے فروخت سامنے آ سکتی ہے۔ اس لیے ایک روز کی مضبوط تیزی کو طویل مدتی رجحان کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا اور سرمایہ کار عالمی جغرافیائی سیاسی صورت حال، تیل کی قیمتوں اور مقامی معاشی اشاریوں پر نظر رکھیں گے۔