اردو ہیڈ لائنز ڈیسک

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے درآمدی پیٹرولیم مصنوعات کے لیے کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج سہولت قائم کرنے کی نئی پالیسی منظور کرلی ہے، جس کے تحت غیر ملکی فیول سپلائرز پاکستان میں اپنے خرچ پر ذخیرہ گاہیں قائم یا منظور شدہ بانڈڈ ٹرمینلز استعمال کرسکیں گے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملک کی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانا، سپلائی چین میں رکاوٹوں کے اثرات کم کرنا اور ضرورت کے مطابق مقامی مارکیٹ یا دوبارہ برآمد کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ دستیاب رکھنا ہے۔

یہ فیصلہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ای سی سی کے اجلاس میں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن کی سمری میں غیر ملکی سپلائرز کے اکاؤنٹ پر پیٹرولیم مصنوعات پاکستان لانے اور انہیں کسٹمز بانڈڈ سہولیات میں رکھنے کی اجازت دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ پالیسی کو وفاقی کابینہ کی باضابطہ توثیق درکار ہوگی، جس کے بعد متعلقہ رہنما اصول نافذ العمل ہوں گے۔

نئی پالیسی کے دائرہ کار میں خام تیل، موٹر اسپرٹ یعنی پیٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل، جیٹ فیول، فرنس آئل، ایل پی جی اور ایل این جی سمیت مختلف پیٹرولیم مصنوعات شامل ہوں گی۔ درآمد شدہ مصنوعات کو اوگرا کی منظور شدہ تکنیکی خصوصیات پر پورا اترنا ہوگا۔ تاہم پاکستان پر لاگو بین الاقوامی پابندیوں سے متعلق اشیا اور امپورٹ پالیسی آرڈر کی منفی فہرست میں شامل مصنوعات اس سہولت سے مستفید نہیں ہوسکیں گی۔

رپورٹ کے مطابق غیر ملکی سپلائرز مقامی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریوں کو بانڈڈ ذخیرے سے مصنوعات فروخت کرسکیں گے، جبکہ دوبارہ برآمد کا راستہ بھی کھلا رہے گا۔ مقامی فروخت کی صورت میں سیلز ٹیکس سمیت درآمد سے متعلق ذمہ داریاں اس آئل مارکیٹنگ کمپنی یا ریفائنری پر عائد ہوں گی جو بانڈ سے سامان نکال کر درآمد کنندہ کے طور پر ریکارڈ میں آئے گی۔ غیر ملکی سپلائر اور اس کا مقامی کنسائنی بانڈڈ اسٹوریج کے مرحلے پر سیلز ٹیکس رجسٹریشن کے پابند نہیں ہوں گے۔

منظور شدہ مقامات میں پورٹ قاسم، کراچی پورٹ/کیماڑی، حب اور گوادر سمیت دیگر نامزد بندرگاہیں شامل ہوسکتی ہیں، جبکہ ضابطہ کار کی تکمیل کے بعد اندرون ملک مخصوص اسٹوریج مقامات تک پائپ لائن کے ذریعے مال منتقل کرنے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ متعلقہ بانڈڈ گودام یا ٹرمینل کو کسٹمز قوانین کے تحت لائسنس درکار ہوگا۔

ڈان کے مطابق حالیہ بین الاقوامی حالات اور آبنائے ہرمز سے متعلق سپلائی میں رکاوٹوں نے حکومت کو پیٹرولیم سپلائی چین کی کمزوریوں کا دوبارہ جائزہ لینے پر مجبور کیا۔ اسی تناظر میں حکومت اس نظام کے ذریعے اسٹریٹجک ذخائر، متبادل سپلائی ذرائع اور فوری دستیابی کو بہتر بنانا چاہتی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایف بی آر نے نگرانی اور محصولات سے متعلق بعض خدشات ظاہر کیے تھے، تاہم دیگر متعلقہ فریقوں کی حمایت کے بعد تجویز آگے بڑھی۔

پالیسی میں ہنگامی حالات کے لیے بھی شق رکھی گئی ہے۔ کسی باقاعدہ سرکاری ہنگامی صورت حال، مثلاً جنگ، بڑے قدرتی حادثے یا ملکی رسد کے مکمل تعطل کی صورت میں حکومت بانڈڈ ذخیرے سے مصنوعات طلب کرسکے گی، تاہم اس کے لیے مقررہ طریقہ کار اور عالمی مارکیٹ کی متعلقہ قیمت کے مطابق ادائیگی لازم ہوگی۔ معمول کی قلت یا قیمتوں میں عام اتار چڑھاؤ کو اس ہنگامی اختیار کا جواز نہیں بنایا جائے گا۔

یہ فیصلہ پاکستان کی توانائی سپلائی کو زیادہ متنوع بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔ اگر وفاقی کابینہ پالیسی کی توثیق کردیتی ہے تو غیر ملکی سپلائرز کے لیے پاکستان میں ذخیرہ، مقامی فروخت اور دوبارہ برآمد کے نئے انتظامات عملی شکل اختیار کرسکیں گے، جبکہ مقامی ریگولیٹرز اور کسٹمز ادارے ذخائر، ٹیکس اور مصنوعات کے معیار کی نگرانی کریں گے۔