اردو ہیڈ لائنز ڈیسک
اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے گندم ذخائر متعلقہ وصول کنندہ اداروں کو 85 فیصد مقامی اور 15 فیصد درآمدی گندم کے تناسب سے فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی اور اردو پوائنٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ای سی سی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں سے متعلق نو ایجنڈا نکات زیر غور آئے۔
رپورٹ کے مطابق پاسکو کے اسٹاک سے گندم کی فراہمی سے متعلق سمری وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے پیش کی تھی۔ تجویز پاسکو کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سفارش پر مبنی تھی اور اس کا بنیادی مقصد درآمدی گندم کے موجودہ ذخیرے کی بروقت نکاسی کو یقینی بنانا بتایا گیا۔ منظور شدہ فارمولے کے تحت متعلقہ اداروں کو فراہم کی جانے والی گندم میں زیادہ حصہ مقامی پیداوار کا ہوگا جبکہ 15 فیصد حصہ درآمدی اسٹاک سے شامل کیا جائے گا۔
ای سی سی کے فیصلے کو گندم کے سرکاری ذخائر کے انتظام کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ طویل عرصے تک ذخیرہ رکھنے سے گودام، دیکھ بھال اور مالی لاگت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ درآمدی گندم کی منظم اور مرحلہ وار نکاسی سے اسٹاک پوزیشن کو متوازن رکھنے اور سرکاری اداروں پر اضافی ذخیرہ جاتی دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اے پی پی کے مطابق ای سی سی کا اجلاس وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں فنانس ڈویژن میں ہوا۔ کمیٹی نے گندم سے متعلق سمری کے علاوہ دیگر معاشی، مالیاتی اور شعبہ جاتی معاملات بھی دیکھے۔ پاسکو گندم کی فراہمی کے لیے منظور کیا گیا 85 اور 15 فیصد کا تناسب ان اداروں پر لاگو ہوگا جو سرکاری ذخائر سے گندم وصول کرتے ہیں، جبکہ متعلقہ انتظامی ادارے فراہمی اور اٹھان کے عملی شیڈول کو نافذ کریں گے۔
پاسکو وفاقی سطح پر زرعی اجناس کی خریداری، ذخیرہ اور فراہمی میں کردار ادا کرتا ہے، اور گندم کے ذخائر سے متعلق فیصلے ملک کی غذائی سلامتی، سرکاری ذخیرہ جاتی لاگت اور مارکیٹ سپلائی کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں مقامی اور درآمدی گندم کے تناسب، اسٹاک کی عمر اور مختلف صوبوں یا وصول کنندہ ایجنسیوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے متعدد انتظامی فیصلے کیے گئے ہیں۔
نئے فیصلے میں درآمدی گندم کو مکمل طور پر الگ رکھنے کے بجائے مقامی گندم کے ساتھ طے شدہ تناسب کے تحت جاری کرنے کا طریقہ اپنایا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس سے درآمدی اسٹاک کی بروقت نکاسی ممکن ہوگی اور پاسکو کو موجودہ ذخائر بہتر انداز میں منظم کرنے میں سہولت ملے گی۔ تاہم گندم کی اصل فراہمی، مقدار اور متعلقہ وصول کنندہ اداروں کی ضروریات عملی شیڈول اور سرکاری انتظامات کے مطابق طے ہوں گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب گندم کی دستیابی، ذخائر، قیمتوں اور خریداری پالیسی پر ملک بھر میں مسلسل توجہ دی جا رہی ہے۔ ای سی سی کا تازہ فیصلہ فوری طور پر گندم کی قیمت مقرر کرنے کے بجائے پاسکو کے موجودہ اسٹاک کے انتظام اور تقسیم کے طریقہ کار سے متعلق ہے۔ حکام کی جانب سے آئندہ مراحل میں متعلقہ اداروں کو فراہمی اور درآمدی گندم کی نکاسی کی پیش رفت کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔




