اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ادارہ جاتی امور کو ڈیجیٹل بنانے اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے الگ اے آئی ونگ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کمیشن کے ڈیجیٹل آفس، ای آفس نظام، مصنوعی ذہانت کے استعمال اور نئی ویب سائٹ سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا اور تکنیکی معاونت کے لیے اے آئی ونگ تشکیل دینے کی ہدایت کی۔

چیف الیکشن کمشنر کے مطابق اس اقدام کا مقصد کمیشن کی استعداد میں جدت لانا اور روزمرہ سرکاری معاملات کو زیادہ ہموار انداز میں نمٹانا ہے۔ اعلان کے مطابق الیکشن کمیشن دسمبر کے اختتام تک مکمل ڈیجیٹل آفس سسٹم کی طرف منتقلی کا ہدف رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ بنیادی طور پر ادارے کے داخلی انتظام، فائل ورک، تکنیکی معاونت اور سرکاری کام کے طریقہ کار کی ڈیجیٹل تبدیلی سے متعلق ہے۔

اجلاس میں ای آفس اور نئی ویب سائٹ کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے ممکنہ استعمال کو ایک مربوط ڈیجیٹل حکمت عملی کے حصے کے طور پر پیش کیا گیا۔ الگ اے آئی ونگ مختلف شعبوں کو تکنیکی مدد فراہم کرے گا، تاہم دستیاب رپورٹ میں یہ تفصیل نہیں دی گئی کہ مصنوعی ذہانت کو انتخابی نتائج، حلقہ بندی، ووٹر فہرستوں یا کسی مخصوص قانونی انتخابی عمل میں کس سطح پر استعمال کیا جائے گا۔ اس لیے موجودہ اعلان کو ان شعبوں میں خودکار فیصلوں کی منظوری سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

پاکستان میں سرکاری اداروں کی ڈیجیٹل منتقلی کے تناظر میں الیکشن کمیشن کا منصوبہ اس لیے اہم ہے کہ ادارہ بڑے پیمانے پر انتخابی، انتظامی اور ریکارڈ سے متعلق معلومات سنبھالتا ہے۔ ڈیجیٹل نظام سے فائلوں کی گردش، ریکارڈ تک رسائی اور داخلی رابطے میں رفتار پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی معاونت بعض دفتری کاموں میں تجزیہ اور تلاش کو آسان بنا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ڈیٹا تحفظ، سائبر سکیورٹی، انسانی نگرانی اور قانونی جواب دہی جیسے تقاضے بھی اہم رہیں گے۔

الیکشن کمیشن نے فی الحال ہدف اور ادارہ جاتی سمت کا اعلان کیا ہے؛ مکمل نظام کے عملی نفاذ، اے آئی ونگ کے ڈھانچے، عملے، بجٹ، استعمال ہونے والے ماڈلز یا ڈیٹا گورننس کے تفصیلی قواعد رپورٹ میں بیان نہیں کیے گئے۔ لہٰذا دسمبر تک ڈیجیٹل منتقلی کی پیش رفت کا حقیقی جائزہ ان عملی مراحل، تکنیکی تیاری اور کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والی مزید تفصیلات کی بنیاد پر ہوگا۔