اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنے انتظامی نظام کو سال کے اختتام تک مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے ایک الگ اے آئی ونگ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کمیشن کے ڈیجیٹل آفس، ای آفس، مصنوعی ذہانت کے استعمال اور نئی ویب سائٹ سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو عمل درآمد تیز کرنے کی ہدایت دی۔

دستیاب تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کا ہدف ہے کہ دسمبر 2026 کے اختتام تک روزمرہ دفتری کارروائی کو مکمل ڈیجیٹل نظام پر منتقل کر دیا جائے۔ اس تبدیلی میں فائلوں اور داخلی انتظامی عمل کو ای آفس کے ذریعے چلانا، مختلف شعبوں کے درمیان معلوماتی بہاؤ بہتر بنانا اور کاغذی کارروائی پر انحصار کم کرنا شامل ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے اس عمل کو ادارے کی استعداد اور روزمرہ امور کی ہموار انجام دہی کے لیے اہم قرار دیا۔

اجلاس میں ایک الگ مصنوعی ذہانت ونگ بنانے کی ہدایت بھی دی گئی، جس کا مقصد کمیشن کے مختلف شعبوں کو تکنیکی معاونت فراہم کرنا ہوگا۔ دستیاب رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اے آئی ونگ انتخابی نتائج، ووٹر رجسٹریشن یا کسی مخصوص حساس انتخابی عمل میں خودکار فیصلے کرے گا؛ اس لیے فی الحال اس اقدام کو داخلی تکنیکی اور انتظامی معاونت کے فریم ورک تک محدود سمجھنا زیادہ درست ہے۔

کمیشن کی نئی ویب سائٹ اور ڈیجیٹل آفس منصوبہ بھی اجلاس میں زیر غور آیا۔ ادارہ انتخابی انتظام، ضابطہ جاتی امور، ووٹر معلومات اور سرکاری رابطوں کے بڑے حجم کو سنبھالتا ہے، اس لیے ڈیجیٹل تبدیلی سے اندرونی ریکارڈ، دستاویزی گردش اور معلومات تک رسائی کے طریقہ کار میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ تاہم منصوبے کی سائبر سکیورٹی، ڈیٹا تحفظ، خریداری یا اے آئی ماڈلز کی تکنیکی تفصیلات اس رپورٹ میں فراہم نہیں کی گئیں۔

یہ اعلان ایک انتظامی ہدف ہے جس کی تکمیل دسمبر تک مقرر کی گئی ہے۔ اس لیے اسے مکمل شدہ ڈیجیٹل منتقلی کے بجائے الیکشن کمیشن کی باضابطہ ہدایت اور ٹائم لائن کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ آئندہ مہینوں میں عملی پیش رفت، نظام کی آزمائش اور مختلف شعبوں کی منتقلی سے اس منصوبے کی حقیقی وسعت اور اثرات زیادہ واضح ہوں گے۔