اسلام آباد: قائم مقام صدر اور چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے منگل کو ایوانِ بالا کی سرکاری موبائل ایپلی کیشن لانچ کر دی اور اسے پارلیمانی ادارے کی ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب اہم قدم قرار دیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ 1973 میں سینیٹ کے قیام کے بعد ادارے کی ڈیجیٹل پیش رفت میں یہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے پارلیمانی معلومات اور ادارہ جاتی کام کو زیادہ قابل رسائی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

نئی ایپ کا اجرا ایسے وقت ہوا ہے جب سینیٹ کی مکمل براہ راست کارروائی سرکاری نشریاتی پلیٹ فارم پی ٹی وی پارلیمنٹ اور ایوانِ بالا کے یوٹیوب چینل پر باقاعدگی سے نشر نہ ہونے کا معاملہ اراکین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق ایک عرصے سے ایوان کی لائیو کوریج، جس میں حکومتی اراکین کی تقاریر بھی شامل ہیں، مسلسل نشر نہیں ہو رہی اور بعض اوقات کارروائی کی تدوین شدہ ویڈیوز ایک دن بعد یوٹیوب پر اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔

اس مسئلے کو حزب اختلاف اور حکومتی دونوں جانب کے اراکین ایوان میں اٹھا چکے ہیں، تاہم رپورٹ کے وقت تک براہ راست نشریات کا مستقل حل سامنے نہیں آیا تھا۔ اس پس منظر میں موبائل ایپ کا اجرا سینیٹ کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں توسیع تو ہے، مگر پارلیمانی شفافیت اور عوامی رسائی کے وسیع تر سوالات بھی اس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

گیلانی نے تقریب میں ڈیجیٹل ذرائع کے استعمال کو ادارہ جاتی جدید کاری سے جوڑا۔ پارلیمانی اداروں کے لیے موبائل پلیٹ فارم قانون سازی، اجلاسوں، دستاویزات اور دیگر سرکاری معلومات تک رسائی آسان بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم نئی ایپ کی افادیت کا عملی اندازہ اس کے مستقل استعمال، معلومات کی بروقت دستیابی اور عوامی رسائی کے معیار سے ہوگا۔

سینیٹ میں ڈیجیٹلائزیشن کا عمل پاکستان کے سرکاری اداروں میں کاغذی طریقہ کار کم کرنے اور معلوماتی نظام کو آن لائن منتقل کرنے کے وسیع رجحان کا حصہ ہے۔ نئی ایپ کے ساتھ اب توجہ اس امر پر بھی رہے گی کہ آیا ایوان کی مکمل کارروائی، ریکارڈ اور عوامی دلچسپی کی معلومات ایک مربوط ڈیجیٹل نظام کے ذریعے بروقت دستیاب ہو پاتی ہیں یا نہیں۔ براہ راست نشریات کے تعطل پر اراکین کے اعتراضات کے باعث ڈیجیٹل رسائی کا یہ پہلو نئی ایپ کے بعد بھی اہم رہے گا۔