اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عوام پاکستان پارٹی کو فہرست سے خارج کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ ڈان کی براہ راست چیک کی گئی رپورٹ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے سابق وزیراعظم اور پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی کی جانب سے دائر درخواست پر ابتدائی دلائل سنے۔

الیکشن کمیشن نے 7 اگست کو جماعت کو اس بنیاد پر ڈی لسٹ کیا تھا کہ وہ مبینہ طور پر انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد اور ان کی قانونی دستاویزات جمع کرانے کی شرط پوری ثابت نہیں کرسکی۔ موجودہ کارروائی میں ابھی اس بنیادی تنازع کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا؛ کمیشن نے صرف یہ طے کرنے کے لیے حکم محفوظ کیا ہے کہ پارٹی کی اپیل باقاعدہ سماعت کے لیے قابلِ قبول ہے یا نہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے بنچ کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ عوام پاکستان کے اندرونی انتخابات 26 مارچ سے 2 اپریل کے درمیان منعقد کیے گئے اور ان سے متعلق دستاویزات 6 اپریل کو کمیشن میں جمع کرا دی گئی تھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جماعت کے 12 ہزار 846 ارکان ہیں اور انتخابی عمل پارٹی کے آئین اور متعلقہ ضابطوں کے مطابق مکمل کیا گیا۔ یہ جماعت کا پیش کردہ مؤقف ہے، جس کی قانونی حیثیت پر محفوظ فیصلہ آنا باقی ہے۔

پارٹی کے مطابق ڈی لسٹنگ کا اقدام ریکارڈ پر موجود مواد اور انتخابی عمل کی تفصیل کو درست طور پر سامنے رکھے بغیر کیا گیا۔ دوسری جانب 7 اگست کے فیصلے میں کمیشن نے لازمی تقاضوں کی تکمیل ثابت نہ ہونے کو بنیاد بنایا تھا۔ اس لیے محفوظ ہونے والا حکم اس بات کی وضاحت کرے گا کہ اپیل کی سماعت کے لیے درکار ابتدائی قانونی شرائط پوری ہوتی ہیں یا نہیں، نہ کہ لازماً یہ کہ پارٹی کی رجسٹریشن فوراً بحال ہوگئی ہے۔

اسی بنچ نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے متعلق الگ مقدمات بھی دیکھے۔ ڈان کے مطابق ان کارروائیوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کے بعد سماعت 15 ستمبر تک ملتوی کی گئی۔ ان مقدمات کا عوام پاکستان کی اپیل سے الگ ریکارڈ اور الگ قانونی سوال ہے، اس لیے ان دونوں کو ایک ہی فیصلے کا حصہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

الیکشن کمیشن کا تحریری حکم جاری ہونے کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ اپیل قابلِ سماعت قرار پاتی ہے، مسترد ہوتی ہے یا مزید دستاویزات اور دلائل طلب کیے جاتے ہیں۔ اس مرحلے پر جماعت کی انتخابی حیثیت، انتخابی نشان یا آئندہ انتخابات میں شرکت کے بارے میں کوئی نیا حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ محفوظ فیصلے کی خبر عدالتی و انتظامی عمل کے ایک عبوری مرحلے کی عکاسی کرتی ہے۔

عوام پاکستان کو 7 اگست کے حکم کے بعد درپیش قانونی راستہ اسی اپیل کے نتیجے سے واضح ہوگا۔ اردو ہیڈ لائنز اس معاملے میں کمیشن کے تحریری حکم اور فریقین کے باقاعدہ ریکارڈ کو بنیادی حیثیت دے گا، جبکہ کسی فریق کے دعوے کو فیصلے کے مساوی پیش نہیں کیا جائے گا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک