اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا کے ان اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا عمل آگے بڑھانے کا حکم دیا ہے جہاں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں، جبکہ خصوصی ہنگامی انتظامات سے متاثرہ 12 اضلاع کو انتخابی پروگرام یا نئی حد بندی کے شیڈول سے فی الحال الگ رکھا گیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پانچ رکنی کمیشن نے ایک روز قبل محفوظ کیا گیا فیصلہ بدھ کو سنایا۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں بنچ میں نثار احمد درانی، شاہ محمد جتوئی، بابر حسن بھروانہ اور جسٹس ریٹائرڈ اکرام اللہ خان شامل تھے۔ کمیشن نے متعلقہ شعبے کو ہدایت کی کہ جن اضلاع میں حد بندی مکمل ہو چکی ہے وہاں بلدیاتی انتخابات کا پروگرام منظوری کے لیے پیش کیا جائے، جبکہ جہاں یہ عمل نامکمل ہے وہاں حد بندی کا شیڈول جاری کیا جائے۔

صوبائی حکام نے امن و امان، ہنگامی صورتحال اور آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی کا حوالہ دیتے ہوئے بلدیاتی انتخابات مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ہنگامی اقدامات نافذ کیے اور صوبے میں گورنر راج قائم کیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے انہی خصوصی حالات کے تناظر میں بعض اضلاع کو فوری انتخابی کارروائی سے الگ رکھا۔

فیصلے کے تحت بنوں، مہمند، اورکزئی، لکی مروت اور شمالی وزیرستان کو ان اضلاع کی فہرست سے خارج کیا گیا ہے جن کے لیے فوری انتخابی پروگرام تیار ہونا ہے۔ دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، باجوڑ، خیبر، کرم، لوئر جنوبی وزیرستان اور اپر جنوبی وزیرستان کو نئی حد بندی کے شیڈول سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر 12 اضلاع مختلف انتخابی مراحل میں خصوصی انتظامات کے تحت باہر رہیں گے۔

کمیشن نے کرک، ہنگو، سوات، بار سوات، بٹگرام، پہاڑپور اور آلائی میں موجودہ ریونیو حدود کے مطابق ویلج اور نیبرہڈ کونسلوں کی تعداد اور تحصیل کونسلوں کی مختلف کیٹیگریز کی مخصوص نشستوں کا تعین کرنے کی بھی ہدایت دی۔ مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ غیر مستثنیٰ علاقوں میں حد بندی اور انتخابی عمل غیر ضروری تاخیر کے بغیر آگے بڑھ سکے۔

الیکشن کمیشن نے اپنے حکم کے لیے آئین کے آرٹیکلز 218(3)، 140A(2)، 219(d)، 220 اور 222 کے ساتھ الیکشنز ایکٹ 2017 کی متعلقہ دفعات کا حوالہ دیا۔ خیبر پختونخوا میں موجودہ بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے بعد انتخابات زیر التوا تھے؛ پہلے مرحلے کی مدت مارچ 2026 اور دوسرے مرحلے کی جون 2026 میں مکمل ہوئی تھی۔ کمیشن کا تازہ حکم پورے صوبے میں ایک ہی وقت انتخابات کرانے کے بجائے دستیاب انتظامی اور سکیورٹی حالات کے مطابق مرحلہ وار پیش رفت کی سمت ظاہر کرتا ہے۔