اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی تیاری اگلے حکم تک روک دی ہے۔ یہ فیصلہ وفاقی حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 140 اے کی معطلی صوبے کے باقی اضلاع تک بڑھانے کے بعد کیا گیا۔ ڈان کی 6 نومبر کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کا آرڈر نمبر 3/2026 کابینہ ڈویژن نے جاری کیا اور اسے 4 نومبر کو گزٹ آف پاکستان میں شائع کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق نئے حکم میں 11 اکتوبر 2026 کے اس اعلامیے کا حوالہ دیا گیا ہے جو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت جاری ہوا تھا۔ اس کے تحت خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کی گئی اور گورنر کو صوبائی حکومت کے اختیارات سنبھالنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ نئے وفاقی حکم کے بعد آرٹیکل 140 اے اب ان باقی اضلاع میں بھی لاگو نہیں رہے گا جہاں اس سے پہلے اس کی معطلی نہیں ہوئی تھی۔
الیکشن کمیشن نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی صدارت میں اجلاس کے دوران نئے حکم کے انتخابی عمل پر اثرات کا جائزہ لیا۔ کمیشن اس سے قبل ان علاقوں کو چھوڑ کر صوبے میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی تیاری کر رہا تھا جہاں ایمرجنسی اور گورنر راج کے تناظر میں متعلقہ آئینی شق پہلے ہی معطل تھی۔ تاہم پورے صوبے تک معطلی بڑھنے کے بعد کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ باقی اضلاع میں بھی انتخابی عمل آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔
آرٹیکل 140 اے صوبوں کو قانون کے ذریعے مقامی حکومت کا نظام قائم کرنے اور سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب نمائندوں کو منتقل کرنے کا تقاضا کرتا ہے، جبکہ اسی شق کے تحت مقامی حکومتوں کے انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ ڈان سے گفتگو میں ایک سینئر ای سی پی عہدیدار نے کہا کہ اس شق کے غیر موثر ہونے سے بلدیاتی انتخابات کی آئینی بنیاد بھی معطلی کی مدت کے لیے غیر فعال ہو جاتی ہے۔
یہ پیش رفت خیبرپختونخوا کے بلدیاتی نظام کے لیے اہم آئینی اور انتظامی اثرات رکھتی ہے۔ فی الحال کمیشن نے کوئی نئی انتخابی تاریخ نہیں دی اور تیاریاں اگلے حکم تک معطل کی گئی ہیں۔ وفاقی حکم کے مطابق گورنر صوبائی قوانین اور رولز آف بزنس کے تحت وزیراعلیٰ کے اختیارات بھی استعمال کریں گے اور وفاقی حکومت کو انتظامی اقدامات کے بارے میں ماہانہ رپورٹ دینا ہوگی۔
اسی اجلاس میں پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے 7 فروری 2027 کی تاریخ مقرر کی گئی۔ کمیشن نے پنجاب حکومت کی درخواست پر موسم، دھند، نقل و حمل اور پولنگ اسٹیشنوں کے انتظامات کو مدنظر رکھتے ہوئے جنوری کے بعد پولنگ کرانے پر اتفاق کیا۔ خیبرپختونخوا کا معاملہ اس سے الگ ہے کیونکہ وہاں انتخابی تیاری روکنے کی وجہ آرٹیکل 140 اے کی صوبہ بھر میں معطلی بتائی گئی ہے۔
