اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات 2015 کے مقامی حکومت قانون کے تحت کرانے کا حکم دیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 21 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق مقدمے کی سماعت کے بعد یہ حکم جاری کیا۔

اسلام آباد میں مقامی حکومت کے انتخابات مختلف قانونی اور انتظامی تبدیلیوں کے باعث طویل عرصے سے تاخیر کا شکار رہے ہیں۔ کمیشن کے تازہ حکم کا بنیادی اثر یہ ہے کہ انتخابی عمل کے لیے قابل اطلاق قانونی فریم ورک کے بارے میں سمت متعین کی گئی ہے۔ 2015 کے قانون کے تحت انتخابات کرانے کا فیصلہ حلقہ بندیوں، انتخابی شیڈول اور انتظامی تیاریوں کے اگلے مراحل کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی نظام کا معاملہ ماضی میں قانون سازی میں تبدیلی، یونین کونسلوں کی تعداد اور انتخابی انتظامات کے تنازعات سے متاثر ہوتا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری آئینی اور قانونی دائرہ کار میں انتخابات کا انعقاد ہے، جبکہ مقامی حکومت کا انتظامی ڈھانچہ متعلقہ قانون کے تحت طے ہوتا ہے۔ تازہ حکم اسی قانونی تنازع میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

رپورٹ کے مطابق فیصلہ پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کے بعد جاری کیا۔ اس مرحلے پر حکم کو انتخابی عمل کے آغاز کی قانونی ہدایت سمجھا جا سکتا ہے، تاہم پولنگ کی حتمی تاریخ، امیدواروں کے کاغذات نامزدگی اور دیگر تفصیلی مراحل کے لیے الیکشن کمیشن کے باقاعدہ شیڈول اور متعلقہ نوٹیفکیشن اہم ہوں گے۔

اسلام آباد کے شہریوں کے لیے بلدیاتی انتخابات مقامی نمائندگی، شہری خدمات اور مقامی سطح پر جواب دہی کے حوالے سے اہم ہیں۔ طویل تعطل کے بعد تازہ حکم نے انتخابات کی قانونی بنیاد واضح کی ہے، لیکن عملی انعقاد کے لیے انتخابی انتظامات اور مقررہ طریقہ کار کی تکمیل ضروری ہوگی۔