اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا میں انتخابی حلقوں سے متعلق وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی انتظامی تبدیلیوں کے بعد بعض حلقوں کی تفصیل دوبارہ بیان کی گئی ہے، تاہم ان کی جغرافیائی حدود میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور وہ 2024 کے عام انتخابات کے وقت والی حدود پر برقرار ہیں۔
کمیشن کے مطابق صوبائی حکومت نے مختلف اضلاع میں انتظامی اکائیوں میں تبدیلیاں کیں، جن میں نئے اضلاع اور تحصیلوں کا قیام اور بعض تحصیلوں کی انتظامی حیثیت یا حدود سے متعلق اقدامات شامل تھے۔ ایسے حالات میں انتخابی ریکارڈ میں حلقے کی تفصیل کو موجودہ انتظامی ناموں اور اکائیوں کے مطابق کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ سرکاری دستاویزات میں ابہام پیدا نہ ہو۔
الیکشن کمیشن نے الیکشن رولز 2017 کے رول 15 کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انتظامی تبدیلیوں کے بعد اسے حلقوں کو دوبارہ بیان کرنے کا اختیار حاصل ہے اور اس نوعیت کا عمل ماضی میں بھی کیا جا چکا ہے۔ کمیشن نے اس عمل کو نئی حلقہ بندی سے الگ قرار دیا ہے۔ نئی حلقہ بندی میں حلقے کی اصل انتخابی حدود، آبادی کی تقسیم اور متعلقہ قانونی عوامل زیر غور آتے ہیں، جبکہ re-description میں موجود حلقے کی انتظامی شناخت کو تازہ سرکاری ڈھانچے کے مطابق بیان کیا جاتا ہے۔
کمیشن نے یہ بھی کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 22، جس کے تحت مجوزہ حلقہ جاتی تبدیلیوں پر اعتراضات اور نمائندگی سننا ضروری ہوتا ہے، اس معاملے پر لاگو نہیں ہوتی کیونکہ کسی حلقے کی حدود ازسرنو نہیں کھینچی گئیں۔ یہ کمیشن کی قانونی تشریح ہے اور تازہ بیان اسی مؤقف کی وضاحت کے لیے جاری کیا گیا ہے۔
حلقہ بندیوں کا معاملہ سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور ووٹرز کے لیے اہم ہے کیونکہ حقیقی سرحدی تبدیلی سے انتخابی فہرستوں، انتخابی حکمت عملی اور مختلف علاقوں کی نمائندگی متاثر ہوسکتی ہے۔ خیبرپختونخوا میں انتظامی اکائیوں کی تشکیل نو کے بعد یہ سوال اٹھا تھا کہ آیا انتخابی حلقوں میں بھی تبدیلی کی گئی ہے، جس پر کمیشن نے واضح کیا کہ 2024 کی بنیادی حلقہ جاتی حدود برقرار ہیں۔
کمیشن کی وضاحت کے مطابق تازہ اقدام کا مقصد صرف انتظامی تبدیلیوں کو انتخابی ریکارڈ میں منعکس کرنا ہے۔ کسی مخصوص حلقے کی نئی تفصیل متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشن سے دیکھی جا سکتی ہے، مگر کمیشن کے مطابق اسے ملک گیر یا صوبہ گیر نئی حلقہ بندی کا عمل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
