اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مزید مؤخر کرنے کی صوبائی حکومت کی تجویز مسترد کرتے ہوئے انتخابات فوری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیشن نے متعلقہ حکام کو پنجاب اور کنٹونمنٹ علاقوں کے لیے انتخابی شیڈول کے مسودے فوری طور پر منظوری کے لیے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق فیصلہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا، جس میں کمیشن کے ارکان اور سینئر حکام شریک تھے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب حکومت نے 14 اکتوبر کے جواب میں بلدیاتی انتخابات اپریل 2027 میں تین مرحلوں میں کرانے کی تجویز دی تھی۔ یہ جواب الیکشن کمیشن کے 2 اکتوبر کے خط اور مجوزہ انتخابی پروگرام کے تناظر میں دیا گیا تھا۔ کمیشن نے صوبائی حکومت کا مؤقف غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے تاخیر کی تجویز قبول نہیں کی۔ اس کے بعد انتخابی حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ فوری پولنگ کے لیے ضروری شیڈول تیار کرکے کمیشن کے سامنے رکھیں۔

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات طویل عرصے سے قانونی، انتظامی اور حلقہ بندیوں سے متعلق مراحل کے باعث زیر بحث رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں الیکشن کمیشن نے صوبے میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کی تیاری اور حلقہ بندیوں کے عمل پر متعدد اقدامات کیے تھے۔ گزشتہ ماہ کمیشن نے ایک ممکنہ انتخابی مدت پر بھی غور کیا تھا، لیکن تازہ فیصلہ صوبائی حکومت کی اپریل 2027 کی تجویز کو مسترد کرکے عمل کو تیز کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

اس فیصلے کا فوری مطلب یہ نہیں کہ پولنگ کی حتمی تاریخ کا اعلان ہو چکا ہے۔ کمیشن نے انتخابی شیڈول کے مسودے طلب کیے ہیں، اور حتمی تاریخیں باضابطہ پروگرام کی منظوری اور اجرا کے بعد واضح ہوں گی۔ اس لیے کسی مخصوص پولنگ تاریخ کو اس مرحلے پر حتمی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ تاہم کمیشن کا واضح مؤقف یہ ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کو اپریل 2027 تک مؤخر کرنے کی صوبائی تجویز قبول نہیں کی گئی۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات شہری خدمات، ضلع اور تحصیل سطح کی نمائندگی اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے حوالے سے اہم آئینی و انتظامی معاملہ ہیں، اس لیے آئندہ جاری ہونے والا انتخابی شیڈول سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور ووٹرز کے لیے اگلا اہم مرحلہ ہوگا۔