پشاور میں ایک نجی تعلیمی ادارے کی عمارت کا حصہ گرنے کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد، جن میں 30 طلبہ اور ایک خاتون ٹیچر شامل ہیں، جاں بحق ہوگئے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق واقعہ 15 اکتوبر کو افریدی آباد کے قریب دیر کالونی میں واقع الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آیا، جہاں بالائی حصے کی چھت گرنے کے بعد نیچے موجود کلاس روم بھی ملبے تلے دب گیا۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان کے مطابق مجموعی طور پر 61 افراد کو ہسپتال لایا گیا۔ بعد میں جاری سرکاری فہرست میں 30 طلبہ اور ایک خاتون ٹیچر کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی، جبکہ متعدد زخمیوں کو علاج کے بعد فارغ کیا گیا۔ ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد سے متعلق مختلف اعداد سامنے آئے تھے، تاہم تازہ دستیاب سرکاری تفصیل میں 31 اموات بتائی گئی ہیں۔

ریسکیو 1122 کے مطابق امدادی ٹیموں نے ملبے میں پھنسے بچوں کو نکالنے کے لیے کارروائی کی۔ پشاور کے ڈپٹی کمشنر نے بعد میں بتایا کہ ملبہ ہٹانے اور تلاش کا آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ پولیس حکام نے ابتدائی مشاہدے میں عمارت کے ڈھانچے کو کمزور قرار دیا، تاہم حادثے کی حتمی وجہ کا تعین باقاعدہ تحقیقات کے بعد ہی ہوگا۔

خیبر پختونخوا حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کا عمل شروع کیا ہے۔ صوبائی سطح پر قائم کمیٹی کو یہ دیکھنے کی ذمہ داری دی گئی ہے کہ عمارت گرنے کی اصل وجوہ کیا تھیں، اسکول انتظامیہ یا متعلقہ ریگولیٹری اداروں کی جانب سے کوئی غفلت ہوئی یا نہیں، اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کون سے حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔ کمیٹی تکنیکی ماہرین، بشمول اسٹرکچرل انجینئر، کی مدد بھی لے سکتی ہے۔

واقعے کے بعد سرکاری اور نجی اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظتی جانچ کا معاملہ بھی نمایاں ہوا ہے۔ صوبائی حکام نے تعلیمی اداروں کے اسٹرکچرل سیفٹی آڈٹ کی ہدایات دی ہیں۔ صدر اور وزیراعظم نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی، جبکہ بچوں کے تحفظ سے متعلق اداروں نے اسکولوں میں محفوظ ماحول یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کسی فرد یا ادارے کی حتمی ذمہ داری طے نہیں کی گئی۔