اسلام آباد: پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے پاکستان کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق تازہ بیان کو اشتعال انگیز اور علاقائی امن کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تیار ہے اور کسی فوجی جارحیت کا جواب دے گا۔

بھارتی وزیر دفاع نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ سرحد پار سے کسی نئی دہشت گرد سرگرمی کی صورت میں بھارت گزشتہ کارروائی سے بھی بڑی ضرب لگا سکتا ہے۔ یہ بھارتی وزیر کا دعویٰ اور دھمکی آمیز مؤقف تھا؛ پاکستان نے اس الزام کو تسلیم نہیں کیا اور دفتر خارجہ نے بیان کو بھارت کے جارحانہ رویے کی عکاسی قرار دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایسے بیانات جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کے لیے خطرات بڑھاتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ برس مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مختصر فوجی تصادم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس وقت اپنی دفاعی صلاحیت اور خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا مظاہرہ کیا تھا۔ ترجمان کے مطابق پاکستان کی تحمل اور امن سے وابستگی کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

سجاد حیدر خان نے بھارت پر زور دیا کہ وہ خطرناک بیان بازی اور جنگجویانہ طرز عمل ترک کرے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں دونوں ملکوں کے سرکاری بیانات خاص اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ فوجی کارروائی کی دھمکی یا جوابی انتباہ خطے میں پہلے سے موجود سکیورٹی خدشات میں اضافہ کر سکتا ہے۔

اسی بریفنگ میں ترجمان سے بھارت کی جانب سے لداخ میں 28 جغرافیائی مقامات کے ناموں کو تسلیم اور معیاری بنانے کے اقدام اور اس پر چین کے اعتراض سے متعلق بھی سوال کیا گیا۔ ترجمان نے جموں و کشمیر کو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع خطہ قرار دیتے ہوئے پاکستان کا دیرینہ مؤقف دہرایا کہ اس کے حتمی مستقبل کا تعین متعلقہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔

دفتر خارجہ نے بریفنگ میں اپنی تصدیقی اور اپوسٹیل خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن پر بھی پیش رفت بتائی۔ ترجمان کے مطابق ای-اٹیسٹیشن شروع کی جا چکی ہے جبکہ ای-اپوسٹیل کی جانب منتقلی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ حفاظتی شرائط پوری کرنے والے درخواست گزاروں کو بعض صورتوں میں ذاتی حاضری سے استثنا مل سکے گا، جس سے بالخصوص بیرون ملک پاکستانیوں کو سہولت ملنے کی توقع ہے۔