اسلام آباد: پاکستان میں نئی پاسپورٹ درخواستوں کے لیے مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کے اجرا کا نظام ختم کر کے ای پاسپورٹ کو مرکزی سفری دستاویز کے طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ اور پاکستانی وزارت خارجہ کے قونصلر معلوماتی صفحات کے مطابق 15 اکتوبر 2026 سے نئی درخواستوں پر ای پاسپورٹ جاری کیے جا رہے ہیں، جبکہ پہلے سے جاری مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ اپنی درج شدہ میعاد ختم ہونے تک قابل استعمال رہیں گے۔
نئے نظام کے تحت پاسپورٹ کی فیس بھی مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کے سابقہ نرخوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق پانچ سالہ، 36 صفحات پر مشتمل ای پاسپورٹ کی نارمل فیس 9 ہزار روپے اور ارجنٹ فیس 15 ہزار روپے مقرر ہے۔ اسی زمرے میں سابقہ مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کی نارمل فیس 4 ہزار 500 روپے اور ارجنٹ فیس 7 ہزار 500 روپے تھی۔ دیگر صفحات اور پراسیسنگ کیٹیگریز کی فیس بھی متعلقہ سرکاری شیڈول کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
حکام کے مطابق ای پاسپورٹ میں جدید الیکٹرانک اور سکیورٹی خصوصیات شامل ہوتی ہیں اور اس کی تیاری کے اخراجات روایتی مشین ریڈ ایبل دستاویز سے زیادہ ہیں۔ امیگریشن و پاسپورٹس کے نظام کو نئی ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کے لیے اضافی پرنٹنگ مشینیں، لیمینیٹرز اور پراسیسنگ سہولیات نصب کی گئی ہیں۔ ملک بھر میں پاسپورٹ دفاتر اور بیرون ملک پاکستانی مشنز کے ذریعے خدمات فراہم کرنے کے انتظامات بھی اس منتقلی کا حصہ ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ موجودہ مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ رکھنے والے شہریوں کو صرف نظام کی تبدیلی کی وجہ سے فوری طور پر اپنا پاسپورٹ تبدیل کرانے کی ضرورت نہیں۔ اگر موجودہ دستاویز درست اور میعاد کے اندر ہے تو وہ اپنی مقررہ مدت تک استعمال کی جا سکتی ہے۔ نئی درخواست، تجدید یا میعاد ختم ہونے کے بعد نئی دستاویز کے اجرا کے وقت ای پاسپورٹ نظام لاگو ہو گا، متعلقہ درخواست گزار کی کیٹیگری اور قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
پاکستان کئی برسوں سے ای پاسپورٹ کے مرحلہ وار اجرا پر کام کر رہا تھا اور 2026 میں حکام نے مکمل منتقلی کی سمت مزید اقدامات کیے۔ الیکٹرانک پاسپورٹ کا مقصد سفری دستاویز کی سکیورٹی بہتر بنانا، شناختی معلومات کے تحفظ میں اضافہ کرنا اور بین الاقوامی امیگریشن نظام کے ساتھ مطابقت کو مضبوط کرنا ہے۔
شہریوں کے لیے عملی طور پر سب سے اہم تبدیلی نئی درخواستوں کی دستاویز کی قسم اور فیس میں ہے۔ درخواست گزاروں کو ادائیگی سے پہلے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس یا متعلقہ پاکستانی مشن کی تازہ سرکاری فیس اور مطلوبہ دستاویزات ضرور دیکھنی چاہئیں، کیونکہ صفحات کی تعداد، میعاد اور نارمل، ارجنٹ یا دیگر پراسیسنگ زمروں کے مطابق رقم مختلف ہو سکتی ہے۔
