پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو چیلنج کرنے والی درخواستیں 20 اکتوبر 2026 کو سماعت کے لیے مقرر کر دی ہیں۔ درخواست گزاروں میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان اور ایڈووکیٹ سلمان خان شامل ہیں، جنہوں نے الگ الگ درخواستوں کے ذریعے وفاقی اقدامات کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھایا ہے۔

درخواستوں میں وفاقِ پاکستان، صدرِ مملکت، وزیراعظم، گورنر خیبرپختونخوا اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ آئینی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا، اور انہوں نے عدالت سے ان اقدامات کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی ہے۔ یہ درخواست گزاروں کا قانونی مؤقف ہے؛ اس پر عدالت نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔

وفاقی حکومت کے مطابق 11 اکتوبر کو صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت اقدامات کی منظوری دی تھی۔ وفاق نے صوبے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق خدشات کو اس فیصلے کی بنیاد قرار دیا ہے۔ پی ٹی آئی، جو صوبائی حکومت کی قیادت کر رہی تھی، ان اقدامات کی مخالفت کر رہی ہے۔

درخواستوں میں صوبائی حالات کا دوسرے علاقوں، خصوصاً بلوچستان میں دہشت گردی کی صورتحال سے تقابل بھی کیا گیا ہے۔ تاہم یہ دلائل عدالتی جانچ کے مرحلے میں ہیں اور ان کا ذکر کسی عدالتی توثیق کے طور پر نہیں کیا جا سکتا۔ سماعت کے دوران عدالت فریقین کے آئینی اور قانونی دلائل سن کر یہ طے کرے گی کہ درخواستوں پر مزید کارروائی کس انداز میں آگے بڑھے گی۔

خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا معاملہ حالیہ دنوں میں قومی سیاست اور آئینی بحث کا اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ وفاقی حکومت اپنے اقدام کو امن و امان اور سکیورٹی کے تناظر میں ضروری قرار دیتی ہے، جبکہ پی ٹی آئی اسے صوبائی مینڈیٹ اور آئینی اختیارات کے منافی سمجھتی ہے۔

20 اکتوبر کی سماعت اس تنازع کے عدالتی مرحلے میں ایک اہم قدم ہوگی، لیکن سماعت مقرر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ عدالت نے کسی فریق کے مؤقف کو قبول یا مسترد کر دیا ہے۔ حتمی قانونی نتیجہ عدالتی کارروائی اور جاری ہونے والے حکم یا فیصلے کے بعد ہی واضح ہوگا۔