الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات اپریل 2027 تک مؤخر کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے اور صوبے میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول فوری طور پر جاری کرنے کے لیے اپنے دفتر کو مسودہ انتخابی پروگرام منظوری کے لیے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ فیصلہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا، جس میں کمیشن کے ارکان اور اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
پنجاب حکومت نے الیکشن کمیشن کو بتایا تھا کہ دسمبر اور جنوری میں دھند، شدید سردی اور موسم کی دیگر مشکلات کے بعد فروری میں رمضان کی آمد کے باعث انتخابات کو اپریل تک لے جانا مناسب ہوگا۔ صوبائی کابینہ نے تجویز دی تھی کہ پولنگ 4، 11 اور 18 اپریل 2027 کو تین مراحل میں کرائی جائے۔ اس سے قبل اگست میں صوبائی حکام اور الیکشن کمیشن کے درمیان مشاورت میں 15 دسمبر 2026 سے 15 جنوری 2027 کے دوران انتخابات کرانے پر آمادگی ظاہر کی گئی تھی۔
الیکشن کمیشن نے نئی صوبائی تجویز کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کے تحت انتخابات مزید مؤخر نہیں کیے جا سکتے۔ کمیشن نے متعلقہ حکام کو پنجاب کے لیے انتخابی پروگرام فوری طور پر منظوری کے لیے پیش کرنے کا حکم دیا۔ پنجاب حکومت سے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کی تقرری کے لیے مطلوبہ سرکاری افسران کی فہرستیں بھی ایک ہفتے کے اندر فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔
پنجاب میں بلدیاتی اداروں کی مدت دسمبر 2021 میں ختم ہوئی تھی اور اس کے بعد انتخابات بار بار قانونی، انتظامی اور قانون سازی سے متعلق تبدیلیوں کے باعث تاخیر کا شکار رہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کے ساتھ ضروری مشاورتی عمل مکمل ہو چکا ہے، اس لیے اب انتخابی عمل کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔
اسی اجلاس میں کمیشن نے ملک بھر کے کنٹونمنٹ علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے کا بھی جائزہ لیا اور وہاں بھی انتخابی پروگرام آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ پنجاب کے انتخابات کے لیے حتمی پولنگ تاریخ اور تفصیلی مراحل باقاعدہ انتخابی شیڈول جاری ہونے پر واضح ہوں گے، تاہم کمیشن کا تازہ فیصلہ اپریل تک التوا کی صوبائی درخواست کو مسترد کرتا ہے۔

