لاہور: لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے ان لینڈ ریونیو حکام کی جانب سے کمرشل بینکوں کو ٹیکس دہندگان کے اکاؤنٹ اسٹیٹمنٹس فراہم کرنے کے لیے جاری کیے گئے بعض نوٹس کالعدم قرار دے دیے ہیں۔ جسٹس حسن نواز مخدوم اور جسٹس محمد اجمل زاہد پر مشتمل بینچ نے دو آئینی درخواستیں منظور کرتے ہوئے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 176 کے تحت جاری نوٹسز کا جائزہ لیا۔
درخواست گزاروں کے وکیل کا مؤقف تھا کہ ان کے موکل متعلقہ ٹیکس سالوں تک ریٹرن جمع کرا چکے اور قانونی واجبات ادا کر چکے تھے، جبکہ بعد میں بینکوں سے معلومات طلب کرکے ایسی اسیسمنٹ کارروائی کو جاری رکھنے کی کوشش کی گئی جس کے لیے قانونی مدت ختم ہو چکی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ آرڈیننس کے سیکشن 175، 176 اور 177 معلومات، ریکارڈ تک رسائی اور آڈٹ کے مختلف اختیارات فراہم کرتے ہیں، لیکن یہ اختیارات اسیسمنٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق قانونی شرائط کو نظرانداز کرنے کی آزاد طاقت نہیں دیتے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق سیکشن 176 کے تحت حاصل کردہ معلومات کسی جائز اسیسمنٹ کے لیے متعلقہ ہو سکتی ہیں، مگر یہ اختیار سیکشن 120، 121، 122 اور 124 کے تحت قائم قانونی دائرہ اختیار کو وسیع نہیں کر سکتا۔ عدالت نے limitation یعنی مقررہ قانونی مدت کو محض طریقہ کار کی رسمی شرط نہیں بلکہ اس حد کے طور پر دیکھا جس کے اندر سرکاری اختیار قانوناً استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس بنیاد پر عدالت نے کہا کہ سیکشن 176 کا نوٹس ختم شدہ دائرہ اختیار کو محفوظ، معطل یا دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا۔
بینچ نے یہ بھی واضح کیا کہ فیصلہ ان مخصوص نوٹسز کے مقصد اور متعلقہ اسیسمنٹ کی مدت ختم ہونے کے تناظر تک محدود ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ٹیکس حکام کے ہر دوسرے قانونی اختیار کا خاتمہ ہو گیا ہے یا بینک معلومات کسی بھی جائز مقصد کے لیے کبھی طلب نہیں کی جا سکتیں۔ عدالت نے موجودہ مقدمات میں حکام کی جانب سے ایسا الگ قانونی مقصد ثابت نہ کیے جانے پر درخواستیں منظور کیں۔ یہ فیصلہ ٹیکس انتظامیہ کے معلوماتی اختیارات اور اسیسمنٹ کی قانونی مدت کے درمیان حد بندی کے حوالے سے اہم عدالتی تشریح فراہم کرتا ہے۔
