اسلام آباد: اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) نے وفاقی حکومت کے ساتھ جاری تمام مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اتحاد نے کہا ہے کہ بات چیت اس وقت تک دوبارہ شروع نہیں ہوگی جب تک قید پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے ملاقات کا انتظام نہ کیا جائے اور ان کی صحت کے بارے میں معلومات فراہم نہ کی جائیں۔ فیصلہ اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت قیادت کے اجلاس میں کیا گیا۔
ٹی ٹی اے پی نے یہ بھی طے کیا کہ حکومت کے ساتھ آئندہ کسی مذاکراتی عمل میں محمود خان اچکزئی اتحاد کے واحد مجاز رابطہ کار ہوں گے۔ ڈان کے مطابق اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اتحاد نے ان اقدامات کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان بھی کیا۔ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو صوبے میں سکیورٹی صورتحال اور صوبائی حکومت کے کردار سے متعلق اپنے مؤقف کی بنیاد پر ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا، جبکہ پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتیں اس اقدام کو مسترد کرتی ہیں۔
اپوزیشن اتحاد نے دہشت گردی کی تمام صورتوں کی مذمت اور نیشنل ایکشن پلان کی حمایت کا اظہار کیا، لیکن ساتھ ہی خیبر پختونخوا اسمبلی سے منظور شدہ امن جرگہ قرارداد پر عمل کا مطالبہ کیا۔ اتحاد نے متعدد زیر حراست سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی، عمران خان کے اہل خانہ اور ڈاکٹروں کو ان تک رسائی دینے اور صوبے میں حالیہ سیاسی اقدامات واپس لینے کے مطالبات بھی دہرائے۔ یہ مطالبات اپوزیشن کا مؤقف ہیں اور حکومت نے ان تمام نکات کو تسلیم کرنے کا کوئی اعلان نہیں کیا۔
مذاکرات کی معطلی سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری سیاسی رابطوں میں نئی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ اس مرحلے پر مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔ ٹی ٹی اے پی نے واضح طور پر عمران خان سے ملاقات اور صحت سے متعلق معلومات کو پیشگی شرط بنایا ہے، اس لیے آئندہ پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت اور متعلقہ حکام ان مطالبات پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔ سیاسی تنازع کے ساتھ عدالتی کارروائی بھی اہم ہوگی کیونکہ اتحاد نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف قانونی راستہ اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

