کوئٹہ: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان کے ضلع واشک میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے آپریشن میں پانچ دہشت گرد مارے گئے۔ بیان کے مطابق کارروائی 12 اور 13 اکتوبر کی درمیانی شب علاقے میں مسلح افراد کی موجودگی سے متعلق معلومات پر کی گئی۔ سکیورٹی فورسز نے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا اور کارروائی کے دوران پانچ افراد ہلاک ہوئے جنہیں آئی ایس پی آر نے دہشت گرد اور بھارت کی حمایت یافتہ تنظیموں سے وابستہ قرار دیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے مقام سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔ فوجی بیان میں ہلاک افراد پر دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا، تاہم ان کی شناخت یا ان کے خلاف الگ الگ مقدمات اور شواہد کی مکمل تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ اس لیے خبر میں ان کی وابستگی اور مبینہ بیرونی حمایت سے متعلق دعوے کو آئی ایس پی آر کے مؤقف کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔

وفاقی حکومت اور فوج بلوچستان میں سرگرم متعدد مسلح گروہوں کے لیے ’فتنہ الہندوستان‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں اور بھارت پر ان گروہوں کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتے ہیں۔ بھارت ایسے پاکستانی الزامات کی عمومی طور پر تردید کرتا رہا ہے۔ موجودہ کارروائی سے متعلق دستیاب رپورٹ میں کسی آزاد ذریعے سے مبینہ بیرونی سرپرستی کی تصدیق فراہم نہیں کی گئی، اس لیے اس پہلو کو سرکاری الزام سے آگے حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

بلوچستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے مختلف اضلاع میں متعدد انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کی اطلاع دی ہے۔ واشک کی یہ کارروائی ان ہی انسداد دہشت گردی اقدامات کا حصہ بتائی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں مزید خطرات کی موجودگی جانچنے کے لیے صفائی اور نگرانی کی کارروائیاں جاری رہتی ہیں۔ موجودہ واقعے میں سکیورٹی اہلکاروں کے جانی نقصان کی اطلاع دستیاب رپورٹ میں نہیں دی گئی۔ واقعے کی بنیادی تصدیق آئی ایس پی آر کے بیان پر مبنی ہے اور مزید تفصیلات سامنے آنے کی صورت میں ہلاک افراد کی شناخت، مبینہ وابستگی اور برآمد شدہ مواد سے متعلق معلومات واضح ہوسکتی ہیں۔