پشاور کے دیر کالونی علاقے میں واقع ایک نجی تعلیمی ادارے کی عمارت کا حصہ گرنے سے کم از کم 30 طلبہ اور ایک استاد جاں بحق ہو گئے، جبکہ متعدد زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق حادثہ الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آیا، جہاں اوپری منزل کی چھت گرنے کے بعد نیچے موجود کلاس روم بھی ملبے کی زد میں آ گیا۔ واقعے نے شہر میں شدید سوگ کی فضا پیدا کر دی اور جاں بحق بچوں اور استاد کی نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں شہریوں اور حکام نے شرکت کی۔

رپورٹ کے مطابق زخمیوں میں سے کئی کو لیڈی ریڈنگ اسپتال لے جایا گیا۔ صوبائی چیف سیکریٹری نے واقعے کی وجوہات معلوم کرنے، ذمہ داری کا تعین کرنے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات تیار کرنے کی غرض سے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی ہے۔ حکام نے صوبے کے تعلیمی اداروں کے ساختی تحفظ کا جائزہ لینے کے لیے سیفٹی آڈٹ کی ہدایت بھی جاری کی، تاکہ خطرناک عمارتوں یا تعمیراتی خامیوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

خیبر پختونخوا کے گورنر نے وزیراعظم شہباز شریف کو واقعے سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسکول کے مالک کو حراست میں لیا گیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ کسی فرد کی حراست یا تفتیش اس کے جرم کے ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتی؛ ذمہ داری کا حتمی تعین متعلقہ تحقیقاتی اور عدالتی عمل کے بعد ہی ہو گا۔ وزیراعظم نے واقعے کی مکمل رپورٹ طلب کی اور ہدایت کی کہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر قانون کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ یونیسف پاکستان نے بھی متاثرہ بچوں، خاندانوں اور مقامی آبادی کے لیے نفسیاتی و سماجی معاونت کی پیشکش کی اور تعلیمی اداروں میں عمارتوں کے حفاظتی معیار پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ سانحہ اسکول عمارتوں کی تعمیر، نگرانی، منظوری اور باقاعدہ معائنے کے نظام سے متعلق اہم سوالات سامنے لایا ہے۔ صوبائی سطح پر اعلان کردہ سیفٹی آڈٹ کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی عمارتیں طلبہ اور عملے کے لیے محفوظ ہیں یا نہیں۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد حادثے کی فوری وجہ، ممکنہ انتظامی کوتاہی اور تعمیراتی ذمہ داری کے بارے میں زیادہ واضح تصویر سامنے آنے کی توقع ہے۔ فی الحال دستیاب تصدیق شدہ معلومات کے مطابق ہلاکتوں، زخمیوں، تحقیقات اور حفاظتی آڈٹ کے اقدامات کی تصدیق متعلقہ حکام اور معتبر قومی ذرائع نے کی ہے۔