پشاور: خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے پولیس اہلکاروں کے لیے تنخواہوں اور فلاحی مراعات میں تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے شہید اور زخمی اہلکاروں کے خاندانوں کے معاوضہ پیکیج میں اضافہ کیا ہے۔ گورنر کے مطابق صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں پولیس فورس کی فلاح اور اہلکاروں کے خاندانوں کی معاونت کے لیے موجودہ اسکیم میں ترمیم کی گئی ہے۔
نئے پیکیج کے تحت شہید کانسٹیبل، ہیڈ کانسٹیبل، اسسٹنٹ سب انسپکٹر، سب انسپکٹر اور انسپکٹر کے خاندان کو ایک کروڑ 70 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا۔ اس سے پہلے ان رینکس کے لیے معاوضہ ایک کروڑ 10 لاکھ روپے تھا۔ پلاٹ الاٹ کرنے کی سابقہ اسکیم میں بھی تبدیلی کی گئی ہے اور اب شہدا کے خاندانوں کو پلاٹ کے بجائے نقد رقم دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ شہید پولیس اہلکاروں کے بچوں کی تعلیم کے لیے ایک نیا فنڈ بھی قائم کیا جا رہا ہے۔ اس فنڈ کا مقصد بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرنا ہے اور گورنر کے مطابق اس میں بیرون ملک تعلیم کے امکانات کی معاونت بھی شامل ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں میں توقع سے زیادہ اضافہ کیا گیا ہے تاکہ خیبرپختونخوا پولیس کے پیکیج کو دوسرے صوبوں کے مقابلے میں زیادہ پرکشش بنایا جا سکے۔
گورنر نے متعلقہ حکام کو پولیس میں بھرتیوں کا عمل تیز کرنے کی ہدایت بھی دی۔ ان کے مطابق صوبائی پولیس میں تقریباً 17 ہزار آسامیاں خالی ہیں۔ بھرتیوں میں تیزی لانے کا مقصد فورس کی افرادی قوت بہتر بنانا اور امن و امان کی ذمہ داریوں کے لیے دستیاب نفری میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امن اور ترقی کے لیے اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
یہ اعلان اس اجلاس کے چند روز بعد سامنے آیا جس میں گورنر نے پولیس تنخواہوں اور شہید و زخمی اہلکاروں کے خاندانوں کے فلاحی پیکیج میں اضافے کی تجاویز پر مشتمل سمری جلد تیار کرنے کی ہدایت کی تھی۔ خیبرپختونخوا میں 11 اکتوبر کو وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا، جس کے بعد صوبائی انتظامی معاملات میں گورنر کا کردار بڑھ گیا ہے۔ نئے فلاحی اقدامات کا عملی نفاذ متعلقہ سرکاری احکامات، مالیاتی انتظامات اور قواعد کے تحت ہوگا۔
