اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابات میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس سے منسلک غلط معلومات، جعلی مواد اور ڈیپ فیک جیسے خطرات سے نمٹنے کے لیے انتخابی قانونی فریم ورک میں 12 ترامیم تجویز کی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد تیزی سے بدلتی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے تناظر میں انتخابی مہم اور ووٹرز تک پہنچنے والے مواد کے لیے زیادہ واضح قواعد وضع کرنا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے ذریعے آواز، تصویر اور ویڈیو میں ایسی تبدیلیاں ممکن ہو چکی ہیں جنہیں عام صارف کے لیے حقیقی مواد سے الگ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ انتخابی ماحول میں اس نوعیت کا مواد امیدواروں، سیاسی جماعتوں یا سرکاری اداروں سے منسوب کرکے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی پس منظر میں الیکشن کمیشن نے موجودہ قوانین اور ضابطوں میں تبدیلیوں کی ضرورت محسوس کی ہے۔
مجوزہ ترامیم کا بنیادی ہدف انتخابی عمل کی ساکھ اور شفافیت کا تحفظ بتایا گیا ہے۔ اس میں اے آئی سے تیار یا تبدیل کیے گئے مواد، غلط نسبت اور گمراہ کن ڈیجیٹل مہم سے متعلق قواعد کو زیادہ واضح بنانے کی کوشش شامل ہے۔ تاہم تجاویز پیش ہونا اور ان کا قانون بن جانا دو الگ مراحل ہیں؛ کسی بھی قانونی تبدیلی کے لیے متعلقہ آئینی اور پارلیمانی طریقہ کار مکمل ہونا ضروری ہوگا۔
پاکستان میں سوشل میڈیا پہلے ہی سیاسی ابلاغ کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے اور انتخابی مہم کے دوران آن لائن ویڈیوز، مختصر کلپس، تصاویر اور بیانات بڑی تعداد میں گردش کرتے ہیں۔ جنریٹو اے آئی کے عام ہونے کے بعد انتخابی اداروں کے لیے یہ چیلنج بڑھ گیا ہے کہ وہ اظہار رائے اور جائز سیاسی مہم کو متاثر کیے بغیر جعل سازی یا دانستہ گمراہ کن مواد سے کیسے نمٹیں۔
مجوزہ اصلاحات کی مؤثریت کا انحصار صرف قانون کے متن پر نہیں بلکہ تکنیکی شناخت، نفاذ کی صلاحیت، شکایات کے فوری ازالے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ رابطے پر بھی ہوگا۔ اسی طرح یہ بھی اہم ہوگا کہ قواعد کی تعریفیں واضح ہوں تاکہ قانونی سیاسی اظہار اور نقصان دہ مصنوعی مواد کے درمیان قابل عمل فرق قائم کیا جا سکے۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے 12 ترامیم کی تجاویز تیار کی ہیں۔ ان تجاویز کے حتمی متن، منظوری، پارلیمانی کارروائی اور عملی نفاذ سے متعلق اگلے مراحل ابھی باقی ہیں، اس لیے انہیں نافذ شدہ قانون کے بجائے انتخابی ضابطہ کاری کی جاری اصلاحاتی کوشش کے طور پر دیکھا جائے گا۔
