اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی حکومت کی جانب سے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی درجہ بندی تبدیل کیے جانے کے بعد دونوں علاقوں میں نئی حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ کمیشن کے مطابق کوئٹہ کنٹونمنٹ بورڈ کو کلاس ٹو سے کلاس ون جبکہ پنجاب کے کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈ کو کلاس تھری سے کلاس ٹو میں منتقل کیا گیا ہے۔ نئی درجہ بندی کے تحت کوئٹہ میں وارڈز کی تعداد 10 اور کھاریاں میں پانچ مقرر کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کی 29 اکتوبر کو جاری کردہ تین نوٹیفکیشنز کے مطابق حلقہ بندی کا عمل نومبر 2026 میں شروع ہو کر جنوری 2027 میں مکمل ہوگا۔ نقشوں کے حصول، متعلقہ کمیٹیوں اور حکام کی تربیت سمیت انتظامی تیاری 2 سے 4 نومبر تک مکمل کی جائے گی۔ حلقہ بندی کمیٹیاں 5 سے 19 نومبر تک وارڈز کی ابتدائی فہرستیں تیار کریں گی اور یہ فہرستیں 20 نومبر کو اعتراضات کے لیے شائع ہوں گی۔
شیڈول کے مطابق شہری 21 نومبر سے 20 دسمبر تک حلقہ بندی اتھارٹیز کے سامنے اعتراضات جمع کرا سکیں گے۔ متعلقہ حکام 5 جنوری 2027 تک اعتراضات نمٹائیں گے اور 8 جنوری تک اپنے فیصلے حلقہ بندی کمیٹیوں کو پہنچائیں گے۔ وارڈز کی حتمی فہرستیں 13 جنوری کو شائع کرنے کا منصوبہ ہے۔
کھاریاں کے لیے گجرات کے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کو حلقہ بندی کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے جبکہ کھاریاں کنٹونمنٹ کے ایگزیکٹو افسر اور گجرات کے اسسٹنٹ الیکشن کمشنر ارکان ہوں گے۔ کوئٹہ میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کوئٹہ ایسٹ کنوینر ہوں گے اور ایڈیشنل کنٹونمنٹ ایگزیکٹو افسر اور اسسٹنٹ الیکشن کمشنر کوئٹہ ایسٹ کمیٹی میں شامل ہوں گے۔ گوجرانوالہ اور کوئٹہ کے ریجنل الیکشن کمشنرز بالترتیب کھاریاں اور کوئٹہ کے لیے اعتراضات کا فیصلہ کرنے والی اتھارٹیز ہوں گے۔
کمیشن نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ حلقہ بندی کے لیے مقرر افسران کو اس کی پیشگی منظوری کے بغیر تبدیل نہ کیا جائے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا معاملہ بھی الیکشن کمیشن کے سامنے ہے۔ کمیشن کے مطابق حلقہ بندی کا عمومی عمل مکمل ہونے کے باوجود کنٹونمنٹس میں انتخابات کرانے کے لیے کنٹونمنٹس ایکٹ 2023 کی متعلقہ شق کے تحت وفاقی حکومت کی باضابطہ درخواست درکار ہے۔ اس معاملے میں وزارت دفاع اور ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹس ڈیپارٹمنٹ کے حکام کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

