لاہور: ریٹائرڈ کیپٹن محمد صفدر کے چنیوٹ میں ایک اجتماع سے خطاب کے دوران خواتین کی جسمانی خودمختاری کے نعرے اور مرحوم انسانی حقوق کی وکیل اسما جہانگیر کے بارے میں کیے گئے ریمارکس پر سیاسی اور قانونی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان ٹوڈے کے مطابق پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اسما جہانگیر سے متعلق الفاظ کی مذمت کی، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خواتین اور سنگین بیماری سے متعلق اپنے شوہر کے تبصرے پر افسوس کا اظہار کیا۔
رپورٹ کے مطابق صفدر نے ختم نبوت سے متعلق ایک ریلی میں ’میرا جسم، میری مرضی‘ کے نعرے کو ہدف تنقید بناتے ہوئے خواتین اور کینسر جیسی بیماری کے بارے میں ریمارکس دیے۔ ان کے بیان پر تنقید کرنے والوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بیماری کو خواتین کے حقوق یا ذاتی خودمختاری سے جوڑنا نامناسب اور تکلیف دہ ہے۔ مریم نواز نے عوامی ردعمل کے بعد کہا کہ وہ ان ریمارکس سے دکھی ہوئی ہیں۔
اسی تقریر میں صفدر نے مرحومہ اسما جہانگیر کے لیے بھی توہین آمیز لفظ استعمال کیا۔ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس حصے کی الگ سے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسما جہانگیر نے انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے لیے خدمات انجام دیں اور کسی مرحوم قانونی شخصیت کے بارے میں تحقیر آمیز زبان برداشت نہیں کی جانی چاہیے۔ قانونی تنظیموں نے خواتین کے خلاف توہین آمیز طرز بیان کو بھی وقار، برداشت اور بنیادی حقوق کے اصولوں کے منافی قرار دیا۔
اسما جہانگیر پاکستان کی ممتاز وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن تھیں اور 2018 میں انتقال کر گئی تھیں۔ وہ عدلیہ کی آزادی، شہری آزادیوں، خواتین، مذہبی اقلیتوں اور کمزور طبقات کے حقوق کے مقدمات میں نمایاں کردار کے لیے جانی جاتی تھیں۔ ان سے متعلق سیاسی یا مذہبی اختلاف اپنی جگہ، مگر بار تنظیموں کا کہنا ہے کہ اختلاف کو ذاتی تضحیک میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ تنقید صرف سیاسی مخالفین تک محدود نہیں رہی بلکہ وکلا کی نمائندہ تنظیموں اور خود وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا۔ رپورٹ کے مطابق قانونی اداروں نے متعلقہ حکام سے ایسے بیانات پر مناسب کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ تاہم کسی قانونی کارروائی یا عدالتی نتیجے کی تصدیق اس مرحلے پر نہیں ہوئی، اس لیے معاملے کو مطالبات اور مذمتی بیانات کی حد تک ہی بیان کیا جا رہا ہے۔
صفدر کے اصل ریمارکس اور ان پر ہونے والا ردعمل ایک وسیع تر بحث کو بھی سامنے لاتا ہے کہ سیاسی اور مذہبی اجتماعات میں خواتین، بیماری اور فوت شدہ شخصیات کے بارے میں زبان کی حدود کیا ہونی چاہئیں۔ اس خبر میں صفدر کے خیالات کو ان کے اپنے بیان کے طور پر اور بار تنظیموں و مریم نواز کے ردعمل کو متعلقہ فریقوں کے مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
