اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال اور صوبائی حکومت کے مبینہ عدم تعاون کے تناظر میں وفاقی حکومت نے ایمرجنسی اور گورنر راج سمیت متعلقہ آئینی اقدامات پر غور کیا۔ پاکستان ٹوڈے کے مطابق انہوں نے یہ بات پاکستان مسلم لیگ ن کے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں سے خطاب میں کہی اور صوبائی پارٹی قیادت کو عوامی فلاح اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ بڑھانے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ سیاسی احتجاج اور دھرنوں کو عوامی خدمات، ترقی اور سلامتی پر ترجیح دی گئی۔ یہ حکومتی مؤقف اور سیاسی الزام ہے؛ صوبائی حکومت یا تحریک انصاف کا تفصیلی جواب اس رپورٹ میں شامل نہیں تھا، اس لیے ان دعوؤں کو ثابت شدہ نتیجے کے بجائے وزیراعظم کے بیان کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

شہباز شریف نے 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف اخراجات کے لیے ملنے والے اضافی حصے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو برسوں میں تقریباً 800 ارب روپے ملے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس رقم میں سے کتنا حصہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت بہتر بنانے پر خرچ کیا گیا۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ صوبائی پولیس میں تقریباً آٹھ ہزار آسامیاں خالی ہیں۔

انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور آرمی پبلک اسکول پشاور کے حملے کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کی بحالی صرف سکیورٹی اقدامات سے نہیں بلکہ معاشی ترقی، روزگار، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی سے بھی جڑی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبائی قیادت کے ساتھ سیاسی بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی تھی، مگر ان کے بقول طے شدہ تجاویز پر عمل درآمد آگے نہ بڑھ سکا۔ انہوں نے گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ استعمال کو ریاست، معیشت اور صوبے کے عوام کے تحفظ سے جوڑا۔ تاہم خطاب میں کسی فوری نفاذ، صدارتی منظوری یا باقاعدہ آئینی نوٹیفکیشن کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو غور اور سیاسی مؤقف کے مرحلے میں ہی سمجھا جانا چاہیے۔

شہباز شریف نے اپنی جماعت کی صوبائی قیادت سے مختصر مدت کے عوامی فلاحی اقدامات تیار کرنے کو بھی کہا اور چترال، ہری پور، مانسہرہ، باجوڑ اور شانگلہ سمیت مختلف علاقوں میں دانش اسکولوں کے منصوبوں کا ذکر کیا۔ خطاب سے واضح ہوا کہ وفاقی حکومت سکیورٹی کے ساتھ ترقیاتی بیانیے کو بھی خیبرپختونخوا کی سیاست میں مرکزی موضوع بنانا چاہتی ہے، جبکہ کسی بھی آئینی اقدام کی اصل حیثیت اس وقت واضح ہوگی جب متعلقہ آئینی طریقہ کار باضابطہ طور پر شروع کیا جائے۔