اسلام آباد: پاکستان نے افغان طالبان کے ترجمان کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل کی قیادت دوطرفہ تعلقات میں بگاڑ کی بنیادی وجہ، یعنی افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے خطرے، کا مؤثر تدارک کرنے کے بجائے ذمہ داری سے گریز کر رہی ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے 31 اکتوبر کو جاری ردعمل میں افغان طالبان کے مؤقف کو تعلقات کی موجودہ صورت حال کے بارے میں ’’گمراہ کن رویہ‘‘ قرار دیا گیا۔

سرکاری بیان کے مطابق پاکستان کا مؤقف ہے کہ معمول کے تعلقات کی بحالی کے لیے سب سے اہم شرط یہ ہے کہ افغان حکام ان عناصر اور تنظیموں کے خلاف قابلِ تصدیق اور مؤثر اقدامات کریں جو پاکستان کے خلاف حملوں یا منصوبہ بندی کے لیے افغان سرزمین استعمال کرتے ہیں۔ اسلام آباد طویل عرصے سے تحریک طالبان پاکستان اور اس سے منسلک عناصر کی افغانستان میں موجودگی پر تشویش ظاہر کرتا رہا ہے، جبکہ طالبان حکام ایسے الزامات کی مختلف مواقع پر تردید یا مختلف تشریح کرتے رہے ہیں۔

پاکستانی حکومت نے کہا کہ وہ اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے تحت دستیاب ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ اس مؤقف میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ پرامن اور معمول کے ہمسایہ تعلقات چاہتا ہے، لیکن ایسے تعلقات کے لیے سرحد پار دہشت گردی سے متعلق تحفظات کا عملی حل ضروری ہے۔

حالیہ بیان دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کے ماحول میں سامنے آیا ہے۔ سرحدی سلامتی، شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں اور باہمی الزامات نے اسلام آباد اور کابل کے تعلقات پر مسلسل دباؤ رکھا ہے۔ پاکستان کی جانب سے بارہا کہا گیا ہے کہ افغان عبوری حکومت اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کی ذمہ داری پوری کرے۔

افغان طالبان کی قیادت کا عمومی مؤقف رہا ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ محض یقین دہانیاں کافی نہیں اور اسے ایسے اقدامات درکار ہیں جن کے نتائج زمینی سطح پر نظر آئیں۔ اسی اختلاف نے حالیہ سفارتی بیانات کو زیادہ سخت بنا دیا ہے۔

پاکستانی ردعمل میں کسی فوری نئے فوجی یا سفارتی اقدام کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اسے کسی مخصوص کارروائی کے اعلان کے بجائے اسلام آباد کی پالیسی پوزیشن اور انتباہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کابل دہشت گرد گروہوں سے متعلق پاکستانی مطالبات پر کیا عملی قدم اٹھاتا ہے اور دونوں فریق کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں کو کس حد تک جاری رکھتے ہیں۔