اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے درکار تمام انتخابی مواد حاصل کر لیا گیا ہے اور بیلٹ پیپرز کی طباعت کے انتظامات بھی کر لیے گئے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق کمیشن موجودہ قانونی فریم ورک کے تحت انتخابی عمل آگے بڑھا رہا ہے اور پولنگ 20 دسمبر 2026 کو مقرر ہے۔
الیکشن کمیشن کے بیان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو متعلقہ افسران نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں پر بریفنگ دی۔ حکام نے بتایا کہ ضروری انتخابی سامان کی خریداری مکمل ہو چکی ہے۔ کمیشن نے سکیورٹی اور متعلقہ انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے 10 نومبر کو اجلاس بھی طلب کیا ہے جس میں سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد اور انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس بریفنگ دیں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے حالیہ اجلاس اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2026 پر کارروائی کے بغیر ختم ہو گئے۔ اس بل کا مقصد اس سال جاری کیے گئے ترمیمی آرڈیننس کو مستقل قانونی شکل دینا تھا۔ آرڈیننس میں وفاقی دارالحکومت کے لیے تین ٹاؤن کارپوریشنز پر مشتمل نیا بلدیاتی ڈھانچہ تجویز کیا گیا تھا، جن میں ہر کارپوریشن کی سربراہی ایک میئر اور دو ڈپٹی میئرز کو کرنا تھی۔
الیکشن کمیشن نے جولائی میں اسی ترمیمی آرڈیننس کے تحت حلقہ بندی کا عمل شروع کیا تھا اور یہ مشق 14 اکتوبر کو مکمل ہوئی۔ تاہم آرڈیننس کی توسیعی مدت 6 ستمبر کو ختم ہو گئی اور متعلقہ ترمیمی بل پارلیمان سے منظور نہ ہو سکا۔ اس قانونی صورتحال کے بعد الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے موجودہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے مطابق انتخابی پروگرام جاری کرنے کی ہدایت کی۔
اس فیصلے کے نتیجے میں 30 اکتوبر سے کاغذات نامزدگی کا عمل شروع کیا گیا اور 20 دسمبر کو پولنگ کی تاریخ مقرر ہوئی۔ نئی قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے ترمیمی آرڈیننس کے تحت کی گئی حالیہ حلقہ بندی کی عملی حیثیت بھی متاثر ہوئی ہے، جبکہ کمیشن موجودہ قانون کے مطابق انتخابات کرانے کی تیاری کر رہا ہے۔
آئندہ اہم مرحلہ 10 نومبر کا سکیورٹی اجلاس ہوگا، جس میں وفاقی دارالحکومت کے انتظامی اور پولیس حکام انتخابات کے لیے حفاظتی منصوبے پر کمیشن کو آگاہ کریں گے۔ فی الحال الیکشن کمیشن کا مؤقف یہ ہے کہ انتخابی مواد اور بیلٹ پیپرز سے متعلق بنیادی تیاری مکمل ہے، تاہم انتخابی شیڈول میں کسی ممکنہ قانونی یا عدالتی تبدیلی کو صرف متعلقہ اداروں کے باضابطہ فیصلے کے بعد ہی حتمی سمجھا جائے گا۔

