اسلام آباد: خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں پولیو وائرس کا نیا کیس سامنے آنے کے بعد پاکستان میں 2026 کے دوران رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی مجموعی تعداد آٹھ ہوگئی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق تازہ انفیکشن کی تصدیق ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں وائرس کی ترسیل روکنے کے لیے ویکسینیشن مہمات جاری ہیں اور حکام بچوں تک بار بار پولیو قطرے پہنچانے پر زور دے رہے ہیں۔

پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو بالخصوص کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے اور بعض صورتوں میں مستقل فالج کا باعث بن سکتی ہے۔ نئے کیس کا سامنے آنا اس بات کی علامت ہے کہ وائرس کی مقامی گردش مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ کسی ایک تصدیق شدہ کیس کی اہمیت صرف متاثرہ بچے تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ اس علاقے میں وائرس کی موجودگی اور مزید بچوں کے ممکنہ خطرے کی نشاندہی بھی کر سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تازہ کیس ضلع خیبر سے رپورٹ ہوا ہے، جو خیبر پختونخوا کے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں پولیو ٹیموں کو جغرافیائی، سکیورٹی اور آبادی کی نقل و حرکت سے متعلق پیچیدہ حالات کا سامنا رہتا ہے۔ انسداد پولیو حکمت عملی میں گھر گھر ویکسینیشن، نگرانی، ماحولیاتی نمونوں کی جانچ اور رہ جانے والے بچوں تک دوبارہ رسائی جیسے اقدامات شامل ہوتے ہیں۔

حکام کی توجہ اس بات پر ہے کہ ہر مہم میں پانچ سال سے کم عمر زیادہ سے زیادہ بچوں کو ویکسین دی جائے۔ پولیو کے خلاف مؤثر تحفظ کے لیے متعدد خوراکیں ضروری ہوتی ہیں، اسی لیے ایک ہی بچے کو مختلف مہمات کے دوران بار بار قطرے پلائے جاتے ہیں۔ ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کے چھوٹے گروہ بھی وائرس کے لیے منتقلی کا راستہ برقرار رکھ سکتے ہیں۔

پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششیں کئی برسوں سے جاری ہیں۔ کیسز کی تعداد میں کمی یا اضافہ کسی ایک مہم کی کامیابی یا ناکامی کا مکمل پیمانہ نہیں، کیونکہ وائرس کی نگرانی میں کلینیکل کیسز کے ساتھ سیوریج اور دیگر ماحولیاتی نمونوں سے حاصل ہونے والے شواہد بھی اہم ہوتے ہیں۔ تازہ کیس کی تصدیق اس ضرورت کو مزید نمایاں کرتی ہے کہ ویکسینیشن کے ساتھ نگرانی کا نظام بھی مسلسل فعال رکھا جائے۔

صحت حکام کے لیے اگلا اہم مرحلہ متاثرہ علاقے اور آس پاس کی آبادی میں ویکسینیشن کوریج کو مضبوط کرنا اور ایسے بچوں کی نشاندہی کرنا ہے جو گزشتہ مہمات میں رہ گئے ہوں۔ اس خبر میں تصدیق شدہ نتیجہ 2026 کے آٹھویں پولیو کیس کا سامنے آنا ہے؛ وائرس کے ماخذ یا کسی مخصوص فرد یا ادارے کی ذمہ داری سے متعلق کوئی غیر مصدقہ نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا۔