اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مجوزہ پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کی تشکیل کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے اپنے نمائندوں کے نام طلب کر لیے ہیں۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے دونوں اتحادی جماعتوں کے قومی اسمبلی میں چیف وہپس کو الگ الگ خطوط لکھے ہیں۔

ڈان کے مطابق پیپلز پارٹی اپنے ارکان کے نام قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کو بھجوا چکی ہے، تاہم ان ناموں کا ابھی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ کمیٹی کے تمام ارکان کے نام مکمل ہونے کے بعد ایک ساتھ سامنے لائے جائیں گے۔ ان کے مطابق مجوزہ نمائندگی کے فارمولے میں قومی اسمبلی کے ہر 16 ارکان پر ایک نشست مختص کی جا رہی ہے۔

اس فارمولے کے تحت مسلم لیگ ن کو نو، پیپلز پارٹی کو پانچ اور ایم کیو ایم پاکستان کو ایک نشست ملنے کی توقع ہے۔ وزیر پارلیمانی امور کے مطابق حکومتی اتحاد کی بعض چھوٹی جماعتیں مقررہ عددی معیار پر پورا نہیں اترتیں، اس لیے مسلم لیگ ن نے اپنے کوٹے میں سے بلوچستان عوامی پارٹی اور مسلم لیگ ضیا کو ایک ایک نشست دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو بھی اس عمل میں شریک کیا جائے گا۔ طارق فضل چوہدری کے مطابق پیپلز پارٹی پہلے ہی اپوزیشن رہنماؤں سے رابطہ کر چکی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کو اپنے نمائندوں کے نام براہ راست قومی اسمبلی کے اسپیکر کو دینا ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کمیٹی بنانے کی بنیادی پیش رفت اسپیکر ایاز صادق کی جانب سے ہوئی ہے۔

مجوزہ کمیٹی کا مقصد انتخابی نظام سے متعلق مختلف سیاسی جماعتوں کے تحفظات اور اصلاحاتی تجاویز کو پارلیمانی فورم پر زیر بحث لانا ہے۔ پاکستان میں انتخابی قوانین، انتخابی انتظام، نتائج کی شفافیت اور سیاسی جماعتوں کے باہمی اعتماد سے متعلق اختلافات طویل عرصے سے سیاسی مباحث کا حصہ رہے ہیں، اس لیے کمیٹی کی عملی اہمیت اس بات سے وابستہ ہوگی کہ حکومت اور اپوزیشن کس حد تک مشترکہ عمل پر اتفاق کرتے ہیں۔

وزیر پارلیمانی امور نے کہا ہے کہ وہ پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کرکے نامزدگیاں حاصل کریں گے۔ ابھی کمیٹی کی حتمی رکنیت، اجلاسوں کا شیڈول اور اصلاحات کے باقاعدہ ایجنڈے کا مکمل اعلان نہیں ہوا، اس لیے آئندہ مرحلے میں اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے تشکیل اور قواعد کار کی تفصیلات اہم ہوں گی۔