لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر میں صفائی کی صورتحال میں واضح بہتری کے لیے ضلعی انتظامیہ کو 15 روز کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق ستھرا پنجاب پروگرام کی کارکردگی کے جائزہ اجلاس میں صفائی کے موجودہ انتظامات، افرادی قوت، مشینری اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں صفائی کے کام کو سیلف آپریشن کے ماڈل پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق بعض سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کی غیر تسلی بخش کارکردگی کے باعث ان کے کردار کو جاری رکھنے پر بھی غور کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ مقررہ مدت میں ایسے نتائج سامنے آئیں جو شہریوں کو عملی طور پر نظر آئیں۔
صوبائی حکومت نے مرکزی سڑکوں کی روزانہ دھلائی کی ہدایت بھی دی ہے۔ صفائی کے بعد دوبارہ کچرا پھینکنے والوں کے خلاف کارروائی اور بازاروں، سبزی و پھل منڈیوں اور غلہ منڈیوں میں کوڑا پھینکنے پر جرمانوں کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ خالی پلاٹوں پر کچرا پائے جانے کی صورت میں مالکان پر جرمانہ عائد کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔
اجلاس میں ہر ضلع کے لیے ضروری افرادی قوت اور مشینری کی دستیابی کے اہداف مقرر کرنے پر زور دیا گیا۔ دیہات میں ایک دن چھوڑ کر صفائی کرنے، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو فیلڈ مانیٹرنگ افسران کے ساتھ ہفتہ وار اجلاس کرنے اور کارکردگی جانچنے کے لیے کلیدی اشاریے، یعنی KPIs، متعارف کرانے کی ہدایت کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے صفائی کارکنوں کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے کا بھی حکم دیا۔
مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے اجلاس میں اپنے علاقوں کے صفائی انتظامات سے متعلق رپورٹس پیش کیں۔ وزیراعلیٰ نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو دستیاب مشینری اور آلات کی خود تصدیق کرنے اور سیلف آپریشن کے ذریعے ہونے والی ممکنہ بچت کا حتمی ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ ستھرا پنجاب پروگرام کی پیش رفت کا دوبارہ جائزہ ایک ہفتے بعد لینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
یہ فیصلے انتظامی اہداف اور حکومتی ہدایات ہیں؛ صفائی میں سو فیصد بہتری کے دعوے کی عملی تصدیق مقررہ مدت کے بعد زمینی نتائج سے ہوگی۔ نئے آپریشنل ماڈل کی کامیابی کا انحصار مشینری، افرادی قوت، نگرانی، مالی نظم اور شہری سطح پر قواعد کے نفاذ پر رہے گا۔

