اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات کے لیے درکار تمام متعلقہ مواد حاصل کرلیا گیا ہے اور بیلٹ پیپرز کی طباعت کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو متعلقہ افسران نے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کے بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں پر بریفنگ دی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے حالیہ اجلاس اس قانون سازی کو زیر غور لائے بغیر ملتوی ہوگئے جس کے ذریعے وفاقی دارالحکومت کے بلدیاتی انتخابات نئے قانونی فریم ورک کے تحت کرانے کی راہ ہموار ہونا تھی۔ اس صورتحال میں انتخابی ادارہ موجودہ قوانین کے تحت اپنے انتخابی منصوبے کو آگے بڑھا رہا ہے۔
الیکشن کمیشن کے بیان کے مطابق انتخابی عمل کے لیے ضروری مواد کی خریداری مکمل کی جاچکی ہے۔ بیلٹ پیپرز کی چھپائی سے متعلق انتظامات بھی تیار کیے گئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ادارہ انتظامی سطح پر انتخابات کے لیے تیاری جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم کسی ممکنہ قانونی تبدیلی، عدالتی حکم یا انتخابی شیڈول میں باضابطہ ردوبدل کی صورت میں عملی ٹائم لائن متاثر ہوسکتی ہے۔
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ طویل عرصے سے قانون سازی، حلقہ بندیوں اور مقامی حکومت کے ڈھانچے سے متعلق تبدیلیوں کے باعث زیر بحث رہا ہے۔ مقامی حکومت کے انتخابات کے ذریعے شہری سطح پر منتخب نمائندوں کو صفائی، مقامی ترقی، بنیادی سہولتوں اور دیگر بلدیاتی امور میں کردار ملتا ہے، اس لیے انتخابی عمل میں تاخیر کا براہ راست تعلق شہری نمائندگی سے بھی ہے۔
موجودہ اعلان بنیادی طور پر الیکشن کمیشن کی انتظامی تیاری کی تصدیق کرتا ہے۔ اسے اس وقت تک پولنگ کی حتمی تاریخ یا نئے قانون کے نفاذ کا اعلان نہیں سمجھا جانا چاہیے جب تک انتخابی ادارہ اس حوالے سے باضابطہ شیڈول یا مزید ہدایات جاری نہ کرے۔
چیف الیکشن کمشنر کو دی گئی بریفنگ اور انتخابی سامان کی دستیابی سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمیشن موجودہ قانونی پوزیشن کے مطابق انتخابی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ آئندہ مرحلے میں پارلیمانی قانون سازی اور الیکشن کمیشن کے باضابطہ فیصلے اس بات کا تعین کریں گے کہ اسلام آباد کے ووٹرز کب اور کس قانونی ڈھانچے کے تحت مقامی نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔
