ڈیرہ اسماعیل خان: خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں پولیو مہم سے وابستہ چار کارکنوں کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کرلیا۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق واقعہ شیخ عطار یونین کونسل کے ایک گاؤں میں پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے پولیو کارکنوں کو نشانہ بنایا اور بعد ازاں انہیں اپنے ساتھ نامعلوم مقام پر لے گئے۔
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد تحقیقات شروع کردی گئی ہیں، تاہم ابتدائی طور پر اغوا کاروں کی شناخت اور مغوی کارکنوں کے مقام کے بارے میں مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔ حکام نے اس مرحلے پر کسی مخصوص گروہ کو واقعے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا۔ اس لیے حملہ آوروں سے متعلق کسی بھی غیر سرکاری دعوے کو حتمی نتیجہ نہیں سمجھا جاسکتا۔
اسی رپورٹ میں بتایا گیا کہ لوئر جنوبی وزیرستان کے اعظم ورسک علاقے میں پولیو ٹیم کے دو ارکان کو بھی مسلح افراد نے اغوا کیا تھا، تاہم بعد میں دونوں کارکن رہا ہوگئے۔ بعض ذرائع نے اس واقعے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ افراد کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا، لیکن یہ نسبت سرکاری تحقیقات کے حتمی نتیجے کے طور پر سامنے نہیں آئی۔
ٹانک کا واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب پاکستان میں انسداد پولیو مہم حساس علاقوں میں سکیورٹی چیلنجز کے باوجود جاری ہے۔ دور دراز علاقوں میں گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والے کارکن ماضی میں بھی حملوں، دھمکیوں اور اغوا کے واقعات کا سامنا کرتے رہے ہیں، جس کے باعث متعدد اضلاع میں مہمات کے دوران پولیس اور دیگر سکیورٹی انتظامات کیے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسداد پولیو نے ایک روز قبل ملک میں سال کا ساتواں پولیو کیس رپورٹ ہونے کی تصدیق کی تھی۔ متاثرہ بچی کی عمر 13 ماہ بتائی گئی اور اس کا تعلق خیبر ضلع کی تحصیل باڑہ کی جان باز یونین کونسل سے ہے۔ یہ رواں سال خیبر ضلع سے سامنے آنے والا دوسرا کیس تھا۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق رواں سال ملک میں رپورٹ ہونے والے سات پولیو کیسز میں سے چھ خیبر پختونخوا اور ایک سندھ سے سامنے آیا۔ اس پس منظر میں پولیو کارکنوں کی محفوظ رسائی ویکسینیشن مہم کی کامیابی کے لیے اہم ہے، کیونکہ کسی علاقے میں ٹیموں کی نقل و حرکت متاثر ہونے سے بچوں تک بروقت ویکسین پہنچانے میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔
پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے اور مغوی کارکنوں کے بارے میں مزید سرکاری معلومات آنے تک واقعے کے محرکات، ذمہ دار عناصر اور کارکنوں کی موجودہ حالت کے بارے میں قیاس آرائی سے گریز ضروری ہے۔
