مصر کی پارلیمان نے اتوار 18 اکتوبر کو ہنگامی نوعیت کا مکمل اجلاس طلب کیا ہے جس میں سعودی عرب کو ضرورت پڑنے پر دفاعی معاونت فراہم کرنے کے اختیار پر غور کیا جائے گا۔ یہ اجلاس صدر عبدالفتاح السیسی کی درخواست کے بعد بلایا گیا ہے، جنہوں نے کہا ہے کہ اگر ریاض مصر سے مدد طلب کرتا ہے تو قاہرہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے کو تیار ہوگا۔
انادولو کی رپورٹ کے مطابق مصری پارلیمان نے بتایا کہ اجلاس اتوار کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے منعقد ہوگا۔ صدر السیسی نے نیو کیپیٹل میں مصری ملٹری اکیڈمی کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے درخواست کی صورت میں دفاعی مدد فراہم کرنے کے لیے پارلیمانی منظوری درکار ہوگی۔ اسی تناظر میں انہوں نے قانون ساز ادارے سے ہنگامی اجلاس بلانے کا کہا۔
یہ پیش رفت سعودی عرب پر یمن کے حوثی گروپ کے حالیہ حملوں کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خلیجی ممالک کی سلامتی اور علاقائی دفاعی تعاون کو دوبارہ مرکزی مسئلہ بنا دیا ہے۔ مصر اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ سیاسی اور سکیورٹی تعلقات ہیں، تاہم کسی عملی فوجی یا دفاعی اقدام کی نوعیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا سعودی عرب باضابطہ طور پر مدد کی درخواست کرتا ہے اور مصری پارلیمان کس دائرے میں اجازت دیتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ پارلیمانی اجلاس بلایا جانا بذات خود مصر کی فوجی مداخلت یا سعودی عرب میں فورسز بھیجنے کا فیصلہ نہیں ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق زیر غور معاملہ صدر کو ایسی دفاعی مدد فراہم کرنے کی قانونی اجازت دینے سے متعلق ہے جو سعودی درخواست کی صورت میں استعمال کی جا سکے۔ کسی مخصوص آپریشن، فوجی تعیناتی یا کارروائی کی تفصیلات کا اعلان نہیں ہوا۔
یمن میں حوثی تحریک اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کے درمیان تنازع ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے خطے کی سلامتی پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں لڑائی دوبارہ شدت اختیار کرنے سے سعودی تنصیبات اور علاقائی تجارت و توانائی کے راستوں سے متعلق خدشات بڑھے ہیں۔ اتوار کے پارلیمانی اجلاس کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ مصری قانون ساز کس نوعیت اور حدود کی اجازت منظور کرتے ہیں۔

